Thursday, November 22, 2012

المانیہ او المانیہ۔ قسط نمبر تین

المانیہ او المانیہ۔ ۔جرمنی کی سیر
ِ المانیہ او المانیہ۔ سیرِ برلن
قسط نمبر (۳)
ہماری بس چیک پوائینٹ چارلی پہنچی تو مغربی جرمنی کی سرحد پر متعین گارڈز نے ہمارے پاسپورٹ کا جائزہ لیا اور ہمیں آگے بڑھنے کا اشارہ کردیا۔ بس رینگتی ہوئی آگے بڑھی اور نو مینز لینڈ سے ہوتی ہوئی مشرقی جرمنی کی سرحد پر پہنچ گئی۔ دیوارِ برلن کو دیکھ کر جو ہیبت ہم پر طاری ہوگئی تھی وہ اور زیادہ گہری ہوگئی۔ مشرقی جرمن فوجیوں نے انتہائی سرعت کے ساتھ بس کو گھیرے میں لے لیا اور اس کی جامع تلاشی شروع کردی۔ تمام مسافروں کے پاسپورٹ چیک کرکے اپنے قبضے میں کرلیے گئے اور بس کی نچلی منزل پر واقع سامان کے کمپارٹمنٹ کو کھول کر اس کی بھی تلاشی لی گئی۔ تقریبا آدھے گھنٹے کی چیکنگ کے بعد آخر کار ہمیں آگے بڑھنے کا اشارہ کیا گیا۔ اب ہم اگلے چار گھنٹے تک اس بس چے چمٹے رہنے پر مجبور تھے اس لیے کہ ہمارے پاسپورٹ فوجیوں نے اپنے قبضے میں لے لیے تھے جو بشرط واپسی ہی ہمیں لوٹائے جانے تھے۔ ہمارے دل میں یہ احساس جاگزیں ہوچکا تھا کہ ہم ایک آزاد دنیا سے ایک قید خانے میں جارہے تھے۔ایک عجیب اداسی کی کیفیت ہمارے حواس پر طاری ہورہی تھی۔اے اداسی تجھے سلام۔ ہم جو صرف چار گھنٹے کے لیے اس دنیا میں داخل ہوا چاہتے تھے، پریشان تھے، اداس تھے، اپنی آزادی کے چھن جانے پر خوفزدہ تھے۔ ہمیں ان لوگوں کا بھی خیال تھا جو اپنی ساری زندگی اس قید خانے میں گزارنے پر مجبور تھے۔ جن کے ارد گرد ایک لوہے کا پردہ ڈال دیا گیا تھا۔ جو اس وسیع و عریض قید خانے میں ضمیر کے قیدی تھے۔ بھاری دل کے ساتھ ہم نے اس نئی دنیا میں قدم رکھا اور ہماری بس نے چیک پوایئنٹ چارلی سے مشرقی برلن ( مشرقی جرمنی) میں سفر شروع کیا۔
بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر ہمارے پیارے قارئین کو چیک پوائینٹ چارلی سے متعلق کچھ معلومات فراہم کردی جائیں۔ یہ معلومات ہم نے مندرجہ ذیل ویب سائیٹ سے لی ہیں ۔ قارئین اس ویب سائیٹ پر جاکردیوارِ برلن کی پوری تاریخ جان سکتے ہیں۔
http://www.dailysoft.com/berlinwall/history/
’’ ۱۳ اگست ۱۹۶۱ کو سرحدبند کرنے کے دس دن بعد، سیاحوں، دوسرے ممالک کے افسروں ( ڈپلو میٹس ) اور مغربی طاقتوں کے فوجیوں کو مشرقی برلن میں داخلے کے لیے صرف فریڈریش اسٹراسے پر واقع گیٹ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ کچھ دن بعد ، اس کے علاوہ دو اور چیک پوائینٹس کھولے گئے جن میں سے ایک مغربی جرمنی کی سرحد پر واقع تھا اور ہیلم اشٹاڈ میں تھا اور دوسرا مغربی برلن اور مشرقی جرمنی کی سرحد پر ،ڈرائی لنڈن میں تھا۔ ان تین چیک پوائینٹس کو بالترتیب چیک پوائینٹ الفا ( ڈرائی لنڈن)، چیک پوائینٹ براوو ( ہیلم اشٹاڈ) اور چیک پوائینٹ چارلی ( فریڈریش اسٹراسے) کے نام سے پکارا گیا۔‘‘ 
چیک پوائینٹ چارلی سے آگے بڑھے تو ہماری حسین گائڈ نے بس کے انٹر کام پر ہمیں خوش آمدید کہا اور ارد گرد کی عمارات سے متعلق معلومات بہم پہنچانا شروع کردیں۔ ہم ایک کشادہ سڑک پر پہنچے تو گائڈ نے بتایا کہ اس سڑک کا نام اُنٹر ڈی لنٹن یعنی ’’لیموں کے درختوں کی چھاؤں میں‘‘ ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اس سڑک پر دورویہ لیموں کے درخت لگائے گئے تھے جسکی وجہ سے اس اسٹراسے کا نام ہی اُنٹر ڈی لنٹن پڑ گیا تھا۔ اس وسیع و عریض شاہراہ کے دونوں جانب انتہائی عالیشان عمارتیں اس شہر کے عظیم ماضی کے قصے سنا رہی تھیں۔ ایک ایک عمارت دیکھنے کے لائق تھی۔ خوبصورت، عالیشان اور فن تعمیر کا ایک اعلیٰ نمونہ۔ یکے بعد دیگرے ان عمارتوں کا ایک سلسلہ تھا جو دور تک پھیلا ہوا تھا۔ پتھر کی بنی ہوئی یہ بلند و بالا عمارتیں اس پارینہ عظمت کے گن گا رہی تھیں جو اس شہر اور اس عظیم ملک کا خاصہ تھی۔ہم دیکھتے ہی چلے گئے۔ کبھی بس کے سامنے کے شیشے سے آنے والی عمارت کو دیکھتے، کبھی دائیں دیکھتے اور کبھی بائیں۔ ادھر ہماری گائڈ ایک خوبصورت جرمن خاتون تھی جس کے گلے کی حلاوٹ پر ہم کئی کئی مرتبہ قربان ہو ہو سے گئے۔اس کا بیان پہلے جرمن اور پھر انگلش زبان میں ہوتا۔ پہلے ہم اسکے حسین چہرے کی بناوٹ کو دیکھتے ہوئے اس کے خوبصورت منہ سے جرمن زبان کی شیرینی کے مزے لوٹتے اور پھر انگلش میں اس کا مدعا جانتے۔ پہلے جرمن زبان میں وہ جب بھی شہر برلن کا تذکرہ کرتی، اسکے بیان میں لفظ ’برلن‘ ہمیں بلین سنائی دیتا ، پھر اسکے ترجمے میں وہ اسے انگلش لہجے میں بورلن ( رے کو پر کرکے) ادا کرتی۔ ہم جو اسکے الفاظ کی ادائیگی اور تلفظ پر پہلے ہی فدا ہورہے تھے، اس لفظ کو دو مختلف زبانوں میں سن کر تو جھوم جھوم اٹھتے۔اگلے تین گھنٹے کچھ اس تیزی کے ساتھ گزرے کہ ہم حیران رہ گئے ۔کاش کچھ اور وقت ملا ہوتا تاکہ ہم اس کی زبان کی شیرینی سے صحیح طور پر لطف اندوز ہو سکتے۔ کاش کچھ اور وقت ملا ہوتا اور ہم پیدل گھوم کر ان عمارتوں کو دیکھ پاتے۔ یہی سوچتے ہوئے ہم ایک ایک گزرے ہوئے لمحے کو اپنی یادداشت میں محفوظ کرتے رہے۔
ایک جگہ ، پتھر کی خوبصورت عمارت کے صحن میں ہمیں بس سے تارا گیا۔ ہم نے ٹانگیں سیدھی کیں اور گائڈ کی جانب دیکھا تو پتا چلا کہ ہمیں ایک عدد میوزیم کو دیکھنے کے لیے یہاں روکا گیا ہے۔ میوزیم بھی خاصا دلچسپ تھا۔ فارغ ہوئے تو پھر بس میں اپنی اپنی سیٹ سنبھالی اور اپنی حسین ٹوور گائڈ اورمشرقی برلن کے خوبصورت نظاروں میں کھو گئے۔
بس میں سے چلتے چلتے ہم نے ایک عدد عالیشان اور خوبصورت گیٹ کو بھی دیکھا جس کے اوپر ایک لائف سائز رتھ کو چار تنومندگھوڑے کھینچ رہے تھے۔اس ’’کواڈریگا ‘‘ یعنی رتھ کو جرمن دیومالائی کہانیوں کی فتح کی دیوی ’’ وکٹوریہ‘‘ چلارہی ہے۔ پتھر کا بنا ہوا یہ مجسمہ اتنا دل لبھانے والا تھا کہ ہم مبہوت ہوکر اسے دیکھتے رہے جب تک کہ وہ ہماری نظروں سے اوجھل نہ ہوگیا۔یہ عمارت جس کا نام برنڈن برگ گیٹ ہے، برلن کا لینڈمارک یا علامتی عمارت کہلائی جانے کی بجا طور پر مستحق ہے 
کبھی کبھی دیوار برلن کی بھی ہمیں ایک آدھ جھلک نظر آجاتی تھی لیکن دور دور سے، ا دھر ہماری گائڈ اس بارے میں خاموش تھی۔ وہ ہمیں سامنے سے گزرنے والی عمارتوں کے ماضی بعید کے بارے میں فر فر بتاتی رہی، لیکن پچھلے پچاس ساٹھ سالہ تاریخ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ 
خیر صاحب ، یہ چار گھنٹے کہاں گئے، ہمیں آج تک نہیں پتا چلا۔ ہم ایک خوابناک انداز میں اس عظیم الشان شہر کو دیکھتے رہے یہاں تک کہ بس دوبارہ چیک پوائینٹ چارلی پر پہنچ کر رک گئی۔ اب جو تلاشی شروع ہوئی ہے تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ بس کے ہر کونے کھدرے کی تلاشی لی گئی۔سامان کے کمپارٹمنٹ کو دوبارہ کھلوا کر ایک ایک سوٹ کیس اور بیگ کو نکال کر دیکھا گیا۔دراصل مشرقی جرمنی والے یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا کوئی بھی شہری ان کے چنگل سے آزاد ہوکر آزاد دنیا میں جاسکے اور سکھ اور چین کا سانس لے سکے۔ہمیں ہر لمحہ یہ خوف دامن گیر تھا کہ کہیں ہمیں کسی ناکردہ گناہ کی پاداش میں روک ہی نہ لیا جائے۔ خیر خدا خدا کرکے اس تکلیف دہ صورت حال کا خاتمہ ہوا اور فوجیوں نے بس کو آگے بڑھانے کا اشارہ کردیا۔ ہمیں اپنے پاسپورٹ کی بھی فکر دامن گیر تھی لیکن گائڈ کے ہاتھوں میں پاسپورٹوں کی گڈی میں جھانکتا ہوا ہرا رنگ دیکھ کر جان میں جان آئی۔ بس نے ہمیں اسی چوک میں اتار دیا جہاں سے ہم اس سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ ہمیں یقین نہیں آرہا تھا کہ ہم مشرقی جرمنی کے شہر مشرقی برلن ہو آئے ہیں۔ہم نے اور ہمارے کینیڈین دوست نے اپنے اپنے پاسپورٹ سنبھالے اور دوسری بس کی جانب بڑھے جو مغربی برلن کی سیر کے لیے تیار تھی۔ 
اگلے آدھے گھنٹے کے اندر اندرہم مغربی برلن کی سیر کی غرض سے ایک دوسری بس میں آرام سے بیٹھے تھے، ہماری ہمسفر گائڈ ایک اور جرمن شگفتہ چہرے والی خاتون تھی اور بس اپنے سفر پر روانہ ہونے کو تھی۔ ہم نے اپنی نگاہیں گائڈ کے چاند سے چہرے پر گاڑدیں اور مغربی برلن کی بہاریں دیکھنے کے لیے تیار ہوگئے۔
بس چلی تو سب سے پہلا نظارہ قیصر ویلہلم کا گرجا تھا جو جنگ عظیم دوم میں تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوچکا تھا، اس کا تباہ شدہ مینار اب بھی اسی حالت میں کھڑا عظمت رفتہ کی کہانی سنارہا ہے جسکے برابر ۱۹۶۳ میں ایک نئی عمارت بنا دی گئی ہے۔ بس گھومتی رہی اور ہم مغربی جرمنی کی خوبصورت اور نسبتاً نئی عمارات کو دیکھتے رہے۔ ہمارا خیال ہے کہ زیادہ تاریخی اور عالیشان عمارات شہر کے مشرقی حصے میں تھیں۔ بس نے ہمیں دیوارِ برلن کے قریب ایک عمارت میں اتارا اور ہم اس میوزیم کو دیکھتے ہوئے دیوارِ برلن کی اصل کہانی سنتے رہے۔ یہاں سے ہم دیوار کے قریب گئے اور اس پر مغربی جانب بنے ہوئے مصوری کے نمونے دیکھا کیے۔ قریب ہی کچھ قبریں بھی تھیں جو دیوار پار کرنے والوں پر مشرقی گارڈز کے ظلم کی داستان سنا رہی تھیں۔
ہم نے میوزیم کی عمارت کے چبوترے پر چڑھ کر دوسری طرف جھانکا تو قریب ہی برنڈن برگ گیٹ کی عالیشان عمارت نظر آرہی تھی۔ دیوار کی دوسری جانب ایک ہیبت ناک سناٹا چھایا ہوا تھا اور کوئی آدم یا آدم زاد نظر نہیں آتا تھا، گو یا کسی انسان کوبھی اُدھر دم مارنے کی اجازت نہ تھی، اِدھر مغربی جانب اسے ایک مصور دیوار کی حیثیت حاصل تھی جس پر ہزاروں مصوروں نے اپنے نقش و نگار چھوڑے تھے۔
بحیثیت مجموعی برلن ہمیں اچھا لگا تھا۔ آج تقریباً پچیس سال بعد ہم اس شہرکو دوبارہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ متحدہ برلن کتنا عظیم الشان شہر ہوگا۔ اس کریہہ المنظر دیوار کا کیا ہوا ہوگا۔ ٹی وی پر کئی مرتبہ اس دیوار کو گرتے ہوئے دیکھاہے، جو ہمیں بہت اچھا لگا۔ اس وقت لوگوں کے بپھرے ہوئے جذبات کا کیا عالم ہوگا جب انھوں نے ہر زنجیر کو توڑ دیا اور اس قبیح دیوار کو آخر کار گرادیا جس نے انھیں پچاس سال ایک دوسرے سے جدا رکھا تھا۔ اس دنیا میں ہم نے ایک ملک کے اتحاد کو پارہ پارہ ہوتے ہوئے تو اکثر دیکھا ہے لیکن یونیفیکیشن یعنی ایک ملک کے دوحصوں کو متحد ہوتے ہوئے پہلی بار دیکھا۔People have spoken عوام کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔
اپنےدن کی اس مصروفیت میں ہم دوپہر کا کھانا بھول چکے تھے، لہٰذا ان دونوں سفروں سے فارغ ہوکر ہم نے ایک ریستوران میں جاکر رات کا کھانا کھایا ، اور اسٹیشن پہنچ کر میونخ کی ٹرین پر سوار ہوگئے۔ ابھی اتوار کا دن باقی تھا جسے ہم میونخ کی سیر میں گزارنا چاہتے تھے۔ آج ساری رات سفر میں سوتے ہوئے گزار کر کل صبح سویرے ہم میونخ پہنچ جائیں گے جسے اہلِ جرمنی میونچن کہتے ہیں۔ 
رات آئی تو پھر گارڈز نے ہمارے پاسپورٹ چیک کیے اور ہمیں مشرقی جرمنی کا ٹرازٹ ویزا تھمادیا۔ یہ دونوں کاغذات اب بھی ہمارے خزانے میں موجود ہیں۔ جب کبھی ہم اپنے اس خزانے کو نکال کر دیکھنا شروع کرتے ہیں میموری لین میں پہنچ جاتے ہیں، اپنی پیاری یادوں کے درمیان، جب ہم نے یہ سفر کیے تھے۔ جب ہم نے اس انوکھی سرزمین کی سیر کی تھی۔
اس سفر سے واپسی کے بعد برلن ہمارے لیے اجنبی شہر نہ تھا۔ جب کبھی کسی ناول میں اس کا تذکرہ آتا، ہم بہت شوق سے اسے پڑھتے۔ برلن جسے ہم دیکھ چکے۔ دیوارِ برلن جو اب قصہ پارینا بن چکی ، ہم نے اسے دیکھا ہے۔ جان لی کار کا جاسوسی ناول ’’دی اسپائی ہو کیم ان فرام دی کولڈ‘‘ ہمارے پسندیدہ ناولوں میں سے ہے۔ یہ اسی دور کی کہا نی ہے جب دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ دیوار برلن کے اُس طرف اور دیوارِ برلن کے اِس طرف۔آہنی پردے کر اُس طرف اور آہنی پردے کے اِس طرف۔یہ ٹھنڈی جنگ یعنی ’کولڈ وار‘ کا قصہ ہے۔ اسی ناول میں چک پوائینٹ چارلی کا تذکرہ بھی موجود ہے جسے عبور کرتے ہوئے ایک کردار مشرقی جرمن فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتا ہے۔یہ وہی چیک پوائینٹ چارلی ہے جسے عبور کرکے ہم مشرقی برلن گئے تھے۔
اگلی صبح ہم میونچن پہنچ گئے اور سارا دن اسی طرح اس عظیم شہر کی سیر کی اور شام ڈھلے ایرلانگن کو سدھارے۔میونچن، نورمبرگ اور ایرلانگن، جرمن صوبے بویریا کا حصہ ہیں۔ بویریا کے رہنے والے بائر کہلاتے ہیں۔ ریشارڈ شرم بھی ایک بائر تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا۔ 
It’s nice to be a price but it’s higher to be a Bayar
’’پرائس ہونا اچھا ہے لیکن بائر ہونا زیادہ بہتر ہے۔‘‘
کہتے ہیں پرانے زمانے میں بویریا میں گھڑیاں الٹی چلتی تھیں۔ آج بھی بویریا کی گھڑیوں کی دکانوں پر آپ کو ایسی گھڑیاں مل جاتی ہیں جو کاؤنٹر کلاک وائز چلتی ہیں۔ ہم نے بھی میونچن سے ایک ایسی ہی دیوار گھڑی ( وال کلاک) مول لی جو الٹی چلتی تھی۔گھر لاکر اکثر ہم اپنے مہمانوں کو یہ عجیب و غریب گھڑی دِکھا کر حیران کردیا کرتے تھے۔
ہمارا ویک اینڈ ختم ہورہا تھا۔ کل سے پھر وہی ٹریننگ ہوگی اور وہی مصروفیات۔ اِس کورس میں ابھی ایک ہفتہ باقی ہے۔ اگلے ہفتے بابو بھی کراچی سے آرہے ہیں جن کے ساتھ ملکر ہم ایک دوسری ٹریننگ حاصل کریں گے، ایک دوسری جماعت کا حصہ بنیں گے۔ ہمارا کینیڈین دوست، ہمارا جرمن دوست ریشادڑ شرم اور سوین گنار اولسن سب اپنے اپنے گھروں کو سدھاریں گے، شاید پھر کبھی نہ ملنے کے لیے۔ٹرین جوں جوں ایرلانگن سے قریب ہوتی جاتی تھی، ہماری اداسی بڑھتی جاتی تھی۔ اے اداسی تجھے سلام۔

Saturday, December 24, 2011

المانیہ او المانیہ۔ جرمنی کی سیر

قسط نمبر (۲)

یورپ کے عین درمیان میں واقع ، نارتھ اور بالٹک سمندروں اور سلسلہ کوہ آلپس کے درمیان موجود اس ملک کا سرکاری نام فیڈرل ریپبلک آف جرمنی ہے اور اسکا رقبہ لگ بھگ تین لاکھ ساٹھ ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ اسکے مشرق میں پولینڈ اور چیک ریپبلک واقع ہیں تو جنوب میں آسٹریا اور سوئٹزر لینڈ ہیں ، مغرب میں فرانس ، بیلجئیم لکسمبرگ اور ہالینڈ واقع ہیں اور شمال میں ڈنمارک۔ اسکا صدر مقام برلن ہے اور آبادی تقریباً اکیاسی ملین ہے۔ جس زمانے کا یہ قصہ ہے ، یہ ملک دو حصوں میں بٹا ہوا تھا، مشرقی اور مغربی جرمنی۔ مغربی جرمنی فیڈرل ریپبلک آف جرمنی کہلاتا تھا اور مشرقی جرمنی پیپلز ریپبلک آف جرمنی۔ ایک ملک آہنی پردے کی اس جانب واقع تھااور نیٹو کا حصہ تھا تو دوسرا دوسری جانب تھا اور وارسا پیکٹ میں شامل۔ ایک امریکن بلاک میں تھا تو دوسرا روسی بلاک میں۔یورپین یونین ابھی وجود میں نہیں آیا تھا اور سوویت یونین اپنے تمامتر اتحادیوں سمیت موجود تھا۔اور تو اور، شہر برلن بھی دوحصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، مشرقی اور مغربی برلن۔ مغربی برلن جو مشرقی جرمنی کے عین درمیان میں واقع تھا، مغربی جرمنی کا شہر تھا اور مشرقی جرمنی والوں نے اس شہر کے گرد ایک دیوار کھینچ دی تھی جو دیوارِ برلن کہلاتی تھی۔اِس جغرافیے کے پس منظر میں، ہم مغربی جرمنی کے مہمان تھے۔

اگلے دن کی سرمئی صبح برفباری کے ساتھ طلوع ہوئی۔ ہم بمشکل اٹھے اور تیاری وغیرہ کرکے بس اسٹاپ پر جاکھڑے ہوئے۔بس اسٹاپ کے شیڈ میں پہنچے تو اپنے مشہورِ زمانہ اوور کوٹ سے برف کو جھٹکا ، سردی سے تمتمائی ہوئی اپنی ناک کو اپنے ہاتھ سے چھو کر محسوس کیا تو اللہ کا شکر بجالائے کہ ابھی اپنی جگہ پرہی موجود ہےاور بس کا انتظار شروع کردیا۔مسلسل برفباری کا یہ انوکھا منظر ہم نے پہلے کب دیکھا تھا، مبہوت ہوکر ہر طرف دیکھا کیے۔ سبحان تیری قدرت۔
بس آئی تو ایک انوکھا نظارہ دیکھا۔ نہ بس ڈرائیور نے بس کو اسٹاپ سے دور لے جاکر روکا، نہ لوگوں کا ہجوم اس کی طرف دوڑا بلکہ جو کچھ لوگ بشمول رنگا رنگ کپڑوں میں ملبوس طلبا و طالبات وہاں موجود تھے ایک باقاعدہ لائن بنا کر بس کے اگلے دروازے سے داخل ہونا شروع ہوئے اور ساتھ ہی ڈرائیور کو ٹکٹ کے پیسے دیکر، اس سے ٹکٹ حاصل کرتے ہوئے ، اندر داخل ہوتے رہے۔پچھلا دروازہ مسافروں کے بس سے اترنے کے لیے تھا، لہٰذا اُدھر سے کوئی بھی شخص داخل نہیں ہوا۔ بس چل پڑی۔ اتوار کی بہ نسبت زیادہ رش تھا، اس لیے ہم بھی ایک کونے میں ڈنڈا پکڑ کر کھڑے ہوگئے اور اپنے اسٹاپ کا انتظار کر نے لگے۔
گو بس میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی، لیکن سفر مزیدار گزر رہا تھا۔ جہاں برفباری کا حسین منظر بصارتوں کے لیے ایک حسین تحفہ ثابت ہورہا تھا تو وہیں جرمن خواتین کی گفتگو کے آواز و انداز سماعتوں میں شیرینی گھول رہےتھے۔ہم خوش ہوئے اور خوش خوش اپنے اسٹاپ پر اترے اور پھر وہیں سے اپنے تربیتی مرکز تک گرتی ہوئی برف کے مزے لیتے ہوئے ہم نے ایک طویل واک کا آغاز کردیا۔ہر قدم ایک نئی جد و جہد تھا۔بمشکل زور لگا کر اپنا پاؤں برف میں سے نکالتے اور ایک فٹ دور اسے دوبارہ نرم سی برف میں دھنسادیتے۔برف میں چلتے چلتے، گرتے پڑتے آخر کار ہم اپنی منزل مقصود تک پہنچ ہی گئے۔ استقبالیہ پر پہنچ کر اپنے نام کا اعلان کیا اورضروری کاروائیوں کے بعد اپنی کلاس میں پہنچا دئیے گئے۔ نئے دوستوں سے ملے۔ جو لوگ پچھلی مرتبہ کے تجربہ کار تھے ، فوراً کچن سے چائے اور کافی کے تھر ماس اٹھالائے جو فری تھے۔ ہم نے پہلی مرتبہ اسٹرانگ جرمن کافی نوش جان کی اور پسند کی۔استاد کے آنے سے پہلے پہلے ہم کافی پی کر سردی سے بچاؤ کی تدابیر اور اپنی کلاس کے دوستوں کے ساتھ اچھی خاصی گپ شپ کرچکے تھے۔ استاد صاحب تشریف لائے اور ایک عدد بور قسم کی تربیت کا آغاز ہوا۔ دوپہر کے کھانے کا وقفہ ہوا تو دوستوں کے ہمراہ کمپنی کی ایک دوسری عمارت میں پہنچ گئے ۔کینٹین میں پہنچے تو وہاں پر بھی ایک عجیب و غریب منظر دیکھا۔ کیا چھوٹا ، کیا بڑا ہر افسر و کلرک ایک ہی لائن میں کھڑےہوئےتھے۔
ایک ہی صف میں کھڑے تھے گویا محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ ہی تھا اور نہ کوئی بندہ نواز
کینٹین میں پہنچ کر حلال غذا کی تلاش شروع کی اور آخر کار تھک ہار کر سلاد، ڈبل روٹی اور مکھن قسم کی اشیا پر ہی گزارا کیا۔
شام سے پہلے پہلےہم ریشارد شغم ( رچرڈ شرم) ایک جرمن ساتھی اور ایک کینیڈین ساتھی سے گہری دوستی گانٹھ چکے تھے۔ شرم کو اپنے پروگرام کے بارے میں بتایا کہ ہم ایک عدد کموڈور ۶۴ کمپئیوٹر خریدنا چاہتے ہیں تو اس نے جی جان سے مدد کا وعدہ کرلیا۔ کینیڈین ساتھی نے بتایا کہ وہ سنٹرم کے قریب ہی ہوٹل پیئر میں قیام پذیر ہے تو روزآنہ اس کے ساتھ پیدل ہی سنٹرم تک جانے لگے۔ سنٹرم تک پہنچ کر پہلے تو کسی ریسٹورینٹ میں بیٹھ کر کافی کا ایک اور کپ نوشِ جان فرماتے اور اپنے کینیڈین ساتھی کو جامِ شراب لنڈھاتے ہوئے یعنی بئیر کا ایک بڑا گلاس اسکے حلق سے اتارتے ہوئے دیکھتے، ڈھیروں باتیں کرتے اور پھر اسے اسکے ہوٹل چھوڑتے ہوئے اپنی بس پکڑتے۔ کبھی کبھی رات ہوجانے پر میکڈانلڈ سے فش فلے اور کافی یا ہاٹ چاکلیٹ کا ایک بڑا گلاس لیتے اور اس طرح رات کے کھانے سے فارغ ہوکر ہی اپنے کمرے میں واپس پہنچتے۔ ادھر یہ بات بھی پتہ چلی کہ ہم پہلے دن سے جس بس اسٹاپ پر اترتے آرہے تھے وہ ٹریننگ سنٹر سے کافی دور تھا، اگر ہم ایک دو اسٹاپ بس کو اور برداشت کرتے تو قریبی اسٹاپ پر اتر سکتےتھے۔خیر آئیندہ کے لیے ہم نے اپنے راستے میں تبدیلی کرلی اور دو اسٹاپ کے بعد اترنے لگے۔
کینیڈین ساتھی ہی کی بدولت ایک اور یوروپین سے دوستی ہوئی جو کسی اور کلاس میں تھا اور وقفوں میں کافی پینے کے لیے ہمارے کمرے میں آجاتا تھا۔ اس کا نام اب بھی یاد ہے ، وہ سوین گنار اولسن تھا۔بلا کا باتونی۔ ہر موضوع پر بولتا اور اچھابولتا تھا۔ ادھر شرم کے ساتھ دوستی بھی اچھی نبھ رہی تھی، یعنی اس نے اپنا وعدہ پورا کردکھایا تھا۔ پہلے تو وہ ہمیں شہر کے مختلف اسٹورز پر لے گیا اور وہاں ہماری فرمائش پر کموڈور کی قیمت دریافت کی، پھر ہمیں لے کر شہر سے تقریباً باہر ایک بڑے اسٹورپر جا کر ان کے کاؤنٹر پرہمیں پیش کردیا۔ ہم نے کمپئیوٹر کی قیمت دریافت کی تو پتہ چلا کہ قیمت میں کہیں بھی فرق نہیں ہے، لہٰذا ہم نےاپنے پیارے دوست شرم کے مشورے کے ساتھ، وہیں سے اپنی زندگی کا سب سے پہلا کمپئیوٹر بمع ایک عدد فلاپی ڈرائیو کے خریدا۔ ہم نے ان دونوں چیزوں کے نام لیے اور کلرک نے قریب ہی کسی شیلف سے نکال کر ان چیزوں کو ہمارے حوالے کردیا۔ نہ چیکنگ کی دِقت اور نہ ڈبے کھولنے کی ضرورت، ہم نے قیمت ادا کی اور شرم کے ساتھ آکر گاڑی میں بیٹھ گئے۔ اب ایک مشکل اور تھی۔ اس کمپئیوٹر کو ہم کون مانیٹر پر دیکھیں گے؟ ہم نے شرم کو اس مشکل سے آگاہ کیا تو اس نے فوراً گاڑی موڑلی اور سنٹرم میں واقع واحد ڈیپارٹمنٹل اسٹور پہنچ کر ہمیں ایک عدد چھوٹا، چھ انچ اسکرین کا بلیک اینڈ وہائٹ ٹی وی بھی مول لےدیا۔ ہماری ساری مشکلیں آسان ہوچکی تھیں۔ کشاں کشاں گھر پہنچے ۔ گھر پہنچ کر ٹی وی کو ٹیون کیا اور جرمن نشریات دیکھتے ہوئے کمپئیوٹر کو اسکے ڈبوں سے نکال کر سیٹ کیا ۔ پھر کیا تھا، ہماری تو پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں اور سر کڑھائی میں۔ رات کوباری باری، دیر تک، کبھی ٹی وی دیکھتے اور کبھی کمپئیوٹر سے کھیلتے۔ چند ایک جملوں کے علاوہ ،( مثلاً ڈانکے شون یا ڈانکے، بیٹے شون، آف ویڈے زین، اش بین آئنے ٹیکنیکار وغیرہ) جو ہم اب تک سیکھ چکے تھے، جرمن زبان گو ہماری سمجھ سے بالاتر تھی ، پھر بھی کبھی کبھی تو اتنے ’اچھے‘ اور ’دلچسپ‘ پروگرام دیکھنے کو ملتے تھے کہ طبیعت باغ باغ ہوجاتی اور ہم عش عش کر اٹھتے۔یہی لن ترانیاں تھیں اور ہم تھے۔پورا ہفتہ اسی طرح مصروف گزر گیا۔
ایک ایسےہی جمعے کی شام کا ذکر ہے، ہم ٹریننگ سنٹر کی مصوفیات سے فارغ ہوکر اپنے کینیڈین دوست کے ساتھ ایک قریبی ریستوران میں بیٹھے موسم کا لطف اٹھارہے تھے اور ساتھ ہی اسی طرح کافی کی چسکیاں لے رہے تھے، جس طرح ہمارا دوست بیئر کے مزے لے رہاتھا۔ کتنی شیریں تھی زندگی اُس پل۔ پاکستان سے باہر جاکر جمعہ کی شام کا تو لطف ہی دوبالا ہوجاتا ہے۔ ڈھائی دن کی پُر لطف چھٹی ہمارے سامنے تھی۔ چاہیں سوئیں، چاہیں اپنے نئے کمپئیوٹر پر گیم کھیلیں، چاہیں لیٹے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے۔ 
اچانک ہمارے کینیڈین دوست نے اپنی خمار آلود نگاہیں اوپر اٹھائیں اور ہم سے مخاطب ہوا۔
’’ خلیل! کیا خیال ہے؟ کیوں نہ برلن چلیں؟‘‘
’’برلن؟ ابھی؟‘‘ ہم حیران رہ گئے۔’’ گورا نشے میں ہے۔‘‘ ہم نے سوچا۔
’’ہاں۔ کیوں نہیں؟‘‘ وہ ترنگ میں آکر بولا۔
اندھا کیا چاہے، دو آنکھیں۔ دو دن کی پہاڑ جیسی چھٹی ہمارے سامنے تھی۔ہم نے فوراً حامی بھرلی۔
ہم دونوں نے جلد جلد اپنے مشروبات ختم کیے اور وہاں سے نکل کر ریلوے اسٹیشن پہنچے جو سنٹرم سے زیادہ دور نہ تھا۔ معلومات کی کھڑکی سے معلوم ہوا کہ برلن جانے والی انٹر سٹی ریل گاڑی رات بارہ بجے یہاں سے روانہ ہوگی۔ ہم نے بکنگ کروا لی اور اپنے اپنے مستقر کی طرف روانہ ہوگئے۔ رات بارہ بجے دوبارہ ایک ایک تھیلا لیے اسٹیشن پر ملے اور ٹرین کے آنے پر اطمینان کے ساتھ اس کی آرام دہ سیٹوں پر براجمان ہوگئے۔ ٹرین ساری رات کئی گھنٹے چل کر صبح سویرے برلن زو اسٹیشن پہنچےگی۔ ریل گاڑی چھکا چھک چلی اور ایرلانگن سے روانہ ہوئی اور رات کے کسی پہر سرحد پار کر گئی۔ کچھ سرحدی گارڈ ریل گاڑی پر چڑھ آئے اور لگے پاسپورٹ چیک کرنے۔ ہم دونوں نے اپنے پاسپورٹ انکے حوالے کیے تو انھوں نے کاغذی کارروائی کے بعد ایک علیحدہ کاغذ پر مشرقی جرمنی کا ٹرانزٹ ویزا ہمارے حوالے کر دیا اور یوں ہم مغربی جرمنی سے مشرقی جرمنی میں داخل ہوگئے۔ 
ہم نے آرام دہ برتھ پر لیٹ کر آنکھیں بند کرلیں اور ایک دوسری دنیا میں پہنچ گئے۔ صبح سویرے تازہ دم ہوکر اٹھے تو اجالا پھیل چکا تھا اور ریل گاڑی مشرقی جرمنی کےمیدانوں، کھیتوں اور کھلیا نوں ، بستیوں اور ویرانوں سے دوڑتی ہوئی گزرتی جارہی تھی۔ پہلی چیز جو ہم نے محسوس کی وہ مغربی جرمنی اور مشرقی جرمنی کے ماحول کا واضح فرق تھا۔ جہاں مغربی جرمنی کے ماحول سے امارت ٹپکتی تھی وہیں مشرقی جرمنی کا ماحول نسبتاً غربت کی عکاسی کرتا تھا۔ تھوڑی دیر میں ہم مشرقی جرمنی کو عبور کرکے مغربی برلن میں داخل ہوگئے اورصبح سات بجے کے قریب برلن زو نامی ریلوے اسٹیشن پر اتر گئے۔
ریلوے اسٹیشن سے خراماں خراماں چلتے ہوئے باہر نکلے تو برلن کی خوبصورت صبح اپنے حسین جلوے بکھیرے ہماری منتظر تھی۔ ہم نے سڑک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ٹہلتے ہوئے ایک چکر لگا یا اور برلن کا مشہور ناشتہ کرنے کے لیے ریستوران کے باہر لگی ہوئی ایک میز پر براجمان ہوگئے۔ مزے لے لے کر ناشتہ کیا اور اس دوران موسم اور دیگر نظاروں کا خوب لطف اٹھایا۔ ناشتے سےفارغ ہوئے تو دیکھا کہ قریب ہی کئی ٹووربسیں مسافروں کے انتظار میں کھڑی تھیں۔ ہم نے بھی مشرقی برلن کے ٹوور کا بس ٹکٹ خرید لیا۔ یہ سفرچار گھنٹے دورانیئے کا تھا۔بس کچھ دیر مسافروں کے انتظار کے بعد ہمیں لے کر چلی تو آن کی آن میں دیوار برلن کی مشہور گزرگاہ چیک پوائنٹ چارلی پہنچ گئی۔ یہاں ہم قارئین کو اس بدنامِ زمانہ دیوار کی تاریخ سے آگاہ کرتے چلیں۔
جنگِ عظیم دوم کے اختتام پر شکست خوردہ جرمنی کو اتحادیوں کےچار فاتح ملکوں یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس اور روس نےپوٹسڈیم ایگریمنٹ کے ذریعے چار حصوں میں بانٹ لیا۔ برلن جو جرمنی کا دارالخلافہ تھا، اسے بھی اسی طرح چار سیکٹرز یعنی حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ اس بندر بانٹ کے دوسال کے اندر اندر ہی اتحادی قوتوں کا فاتح اتحاد پارہ پارہ ہوگیا اور روس اپنے حصے کو لیکر علیحدہ ہوگیا ۔ اِدھر امریکہ برطانیہ فرانس اور قریبی ہالینڈ، بیلجئیم اور لکسمبرگ نے مارشل پلان کے ذریعے باقی تین حصوں کو ملا کر مغربی جرمنی کی تشکیل کی راہ ہموار کردی۔مغربی برلن بھی اسی منصوبے کے تحت مغربی جرمنی کی حدود میں آگیا۔ 
مشرقی جرمنی کے تسلط سے آزادی پانے کے خواہش مند سینکڑوں باشندوں نے موقع غنیمت جانا اور اور سرحد پار کرکے مغربی برلن پہنچنا شروع ہوگئے، جہاں سے وہ آزاد ی کے ساتھ مغربی جرمنی جاسکتے تھے۔ 
اس صورتحال کے پیشِ نظر ۱۹۴۸ میں روسی ڈکٹیٹر جوزف اسٹالن نے مغربی برلن کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا اور اسے چاروں طرف سے گھیر کر ہر قسم کی آمد و رفت اور سپلائیز کو روک دیا گیا۔مغربی طاقتوں نے اس مشکل صورتحال سے اہلِ شہر کو نکالنے اور ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کے لیے برلن ائر لفٹ کا پروگرام بنایا اور اس طرح تمام نجی ائر لائینز کو اس پروگرام میں شرکت کی دعوت دی۔ برلن ائر لفٹ نے اس بائیکاٹ کو بے معنی بنادیا تو ۱۹۴۹ میں یہ بائیکاٹ ختم کردیا گیا۔ ۱۳ اگست ۱۹۶۱ کو مشرقی جرمنی نےدیوار برلن کی تعمیر شروع کی اور اس طرح مغربی برلن کو گھیر کر ہر قسم کی آمد و رفت کو ناممکن بنادیا۔
بالآخر ۱۹۸۹ میں جرمنی متحد ہوا ، اور اس دیوار کو گرادیا گیا لیکن اس عرصے میں تقریباً ۵۰۰۰ لوگوں نے دیوار پھلانگنے کی کوشش کی جن میں سے تقریباً دوسو افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔۱۹۸۶ میں جب ہم مغربی جرمنی پہنچے، تو جرمنی دوحصوں میں منقسم تھا اور دیوارِ برلن اپنی تمام تر حشر سامانیوں سمیت موجود تھی، جسے ہم چار گھنٹے کے لیے عبور کیا چاہتے تھے۔
باقی آئیندہ

Monday, December 19, 2011

المانیہ او المانیہ: جرمنی کی سیر

المانیہ او المانیہ: جرمنی کی سیر
محمد خلیل الرحمٰن
قسط نمبر ایک

ہمیں کالے پانی کی سزا ہوگئی۔ یہ وہی سزا ہے جسے منچلے پردیس کاٹنا کہتے ہیں۔ سنتے ہیں کہ قسمت والوں ہی کے مقدر میں یہ سزا ہوتی ہے۔ عرصہ ایک سال ہم نے بڑی کٹھنائیاں برداشت کیں اور یہ وقت کاٹا۔ پھر یوں ہوا کہ ہمارے لیے اس علاقے ہی کو جنت نظیر بنادیا گیا۔پھر تو پانچوں انگلیاں گھی میں تھیں اور سر کڑھائی میں۔ پھر ہمیں یہ مژدہ جاں فزاء سننے کو ملا کہ ہمیں جرمنی میں پانچ ہفتے کی تربیت یا جبری مشقت کے لیے چن لیا گیا ہے۔ ہم خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ اپنا سفری بیگ اٹھایا اور کراچی کے لیے روانہ ہوگئے۔ گھر پہنچ کر گھر والوں کو بھی یہ خوشخبری سنائی۔ وہ بھی بہت خوش ہوئے اور جواب مضمون کے طور پر ہمیں ایک اور خوشخبری سنادی۔
’’ تمہارے چھوٹے بھائی کا تبادلہ بھی اسلام آباد کردیا گیا ہے اور اب وہ بھی تمہارے ساتھ ہی رہے گا۔‘‘
ابھی یہ بم ہمارے سر پر اچھی طرح پھٹنے بھی نہیں پایا تھا کہ بھائی نے گرینیڈ سے ایک اور حملہ کردیا۔
’’ بھائی! یہ بتائو کہ کراچی سے اسلام آباد جاتے ہوئے اسلام آباد ائر پورٹ پر کسٹم پہلے ہوتا ہے یا پھر امیگریشن؟‘‘
ہم نے خون کے گھونٹ پی کر اس حملے کو بھی برداشت کیا اور سفر کی تیاریوں میں لگ گئے۔ اگلے روز کمپنی کے صدر دفتر پہنچے تو پرِ پروانہ اور دیگر ضروری دستاویزات کے ساتھ ایک عدد لمبی چوڑی فہرستِ اشیائے ضروریہ ہمارے حوالے کی گئی جن کا بہم پہنچایا جانا ہماری ہی صحت کے لیے بہت ضروری تھا۔ 
بڑے بھائی ( مر حوم ) کو ساتھ لیا اور بھاگے بھاگے لنڈا بازار پہنچے اور وہیں سے یہ تمام اشیاء بصد شوق خریدیں جن میں ایک عدد گرم سوئٹر، گرم واٹر پرف دستانے ، ایک جوڑی لمبے جوتے، اندر پہننے کے لیے گرم پائجامےاور ایک عدد لانگ اوور کوٹ شامل تھے۔
اس اوور کوٹ کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔جب ہم فخر سے اسے پہن کر باہر نکلتے تو گورے اور گوریاں ہمیں حیرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے تھے۔ بقول جناب مختار مسعود:۔
’’ چلتے چلتے کسی نے نگاہِ غلط انداز ڈالی اور کسی نے نظر انداز کیا۔ نظر بھر کر دیکھنے والے بھی گو دوچار سہی، اس بھیڑ میں شامل تھے۔( برف کدہ۔ سفر نصیب)
واپسی پر اندازہ ہوا کہ ہم نےغلطی سے زنانہ اوور کوٹ مول لے لیا تھا۔ جس کے بٹن الٹی جانب تھے۔ ہم نے چونکہ زرِ کثیر صرف کرکے یہ قیمتی اوور کوٹ مول لیا تھا، لہٰذا اب اس کا استعمال ترک نہیں کرسکتے تھے۔ ہم نے اسے عرصہ کئی سال تک یورپ کے اکثر سفروں میں استعمال کیا یہاں تک کہ بیگم نے اسے سیلاب فنڈ میں دیدینے کا اعلان کردیا اور ہم اس قیمتی اوور کوٹ سے جبراً محروم کردئیے گئے۔
ہماری پہلی منزل فرینکفرٹ ائر پورٹ تھی، جہاں سے ہمیں جہاز تبدیل کرکے نورمبرگ کی فلائٹ لینی تھی۔ ہمیں تجربہ کار دوستوں نے اس ائر پورٹ سے متعلق پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ یہ ائر پورٹ بہت بڑا ہے اور کئی طویل راستے اس میں طے کرنے پڑیں گے لہٰذا دیکھ بھال کر چلنا۔مزید یہ کہ اس ائر پورٹ پر تمہیں چہرے جتنی چوڑائی والی بندکھڑکیاں بھی نظر آئیں گی ۔ یہ وہاں کا مشہور تانک جھانک شو ( پیپ شو) ہے۔ سکہ ڈالتے ہی شیشے کی کھڑکی پر سے پردا چند منٹ کے لیے سرک جائے گا۔ مزے سے نظارہ کرو۔ اور دیکھو‘‘ انھوں نے تاکیداً کہا۔’’ اس چند منٹ کے عرصے کو پلکیں جھپکانے میں نہ گزار دینا۔غور سے دیکھنا اور ایک ایک تفصیل کا دھیان رکھنا۔‘‘ گویا ہمیں واپسی پر اس تانک جھانک ہی کا تو تجزیہ لکھ کر کمپنی میں پیش کرنا تھا۔
فرینکفرٹ ائر پورٹ ٹرمنل کی عمارت واقعتاً ہمارے قیاس سے بھی بڑی تھی ، لہٰذا ہم ھیبت کے مارے بھاگتےہی چلے گئے اور نورمبرگ کی فلائٹ کی روانگی کے ہال پر جاکر ہی دم لیا اور وہاں پر اطمینان کے ساتھ بیٹھ کر گورے گورے چہروں والی حسینائوں کے سردی سے تمتمائے حسین چہروں کو تکتے رہے۔ ہمارے لیے یہی تانک جھانک بہت تھی۔
نورمبرگ ائر پورٹ سے ٹیکسی لی اور ڈرائیور کو چھپا ہو اکاغذ دکایا جس پر ہماری منزل کا پتا لکھا ہوا تھا۔ اس نے کچھ آئیں بائیں شائیں کی اور ایک نقشہ نکال کر اس پر جھک گیا۔ پھر اس نے وائر لیس ریڈیو پر کسی سے پشتو یا اس قبیل کی کچھ آوازیں نکال کر کچھ گپ شپ کی ، دو منٹ بعد اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور ہمیں منزل مقصود تک پہنچا کر ہی دم لیا۔
ارلانگن ہمارا مستقر دراصل ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جس کا اپنا کوئی ائر پورٹ نہیں ہے۔ نورمبرگ ائر پورٹ جو تاریخی شہر نورمبرگ اور ارلانگن کے درمیان واقع ہے، دو نوں شہروں کے لیے ائر پورٹ کاکام دیتا ہے۔ قارئین کو علم ہوگا کہ نورمبرگ جرمنی کے جنوبی صوبے بویریا کا ایک تاریخی شہر ہے ۔ ہٹلر کے زمانے میں اس شہر کے قلعے میں اس نے گسٹاپو کا عقوبت خانہ بھی بنوایا تھا۔
اس صوبے کا سب سے بڑا اور مشہور شہر میونخ ہے جسے جرمن میونچن کہتے ہیں۔
گھر پہنچے تو صرف ایک بزرگ جوڑ ہی گھر پر ملا۔ دونوں ہمیں دیکھ کر نہال ہوگئے اور مسلسل جرمن زبان میں استقبالیہ کلمات کہتے رہے جو ہمارے لیے آواز کی کرختگی کے لحاظ سے پشتو ہی تھے۔ انھوں نے گھر کے پچھواڑے ہمیں ایک کمرے تک پہنچا دیا جس کا دروازہ اور ایک کھڑکی صحن میں کھلتے تھے۔ کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی ایک جانب ایک گوشے میںچھوٹے سے کچن کا بندو بست تھا اور دوسری جانب ایک باتھ روم تھا۔
ہم بھی ان بڑے میاں اور بڑی بی سے مل کر بہت خوش ہوئےاور اگلے پانچ ہفتوں تک مہ وشوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے رہے، فارسی کا یہ شعر پڑھتے رہے اور جرمن زبان کا مزہ اپنے منہ میں محسوس کرتے رہے۔
زبانِ یارِ من ترکی و من ترکی نمی دانم
چہ خوش بودی اگر بودی زبانِ خوش دہانِ من
اب ہم نے کھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ آرام اور حوائجِ ضروریہ سے فارغ ہونے کے بعد باہر نکلنے کا ارادہ کیا تاکہ ابھی سے بس میں جاکر تربیتی مرکز دیکھ آئیں اور اگلے روز وقتِ مقررہ پر تربیت گاہ پہنچ سکیں۔
باہر سردی مزاج پوچھ رہی تھی ۔ ہم نے دستانے چڑھائے، اوور کوٹ کو اچھی طرح اپنے جسم کے ارد گرد لپیٹ لیا اور بس اسٹاپ پرآکر کھڑے ہوئے اور اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تاکہ اس جگہ کو پہچان کر واپسی کا راستہ متعین کر سکیں۔ پہلے تو ارد گرد کے ماحول کی تفصیلات کو ذہن میں بٹھایا، پھر اس بس اسٹاپ اور اس محلے کا نام معلوم کرنے کی دھن ہمارے دل میں سماگئی۔ یہ ایک چھوٹا سا بس اسٹینڈ تھاجہاں پر بس کا انتظار کرنے کے لیے ایک لکڑی کی بنچ لگائی گئی تھی ۔اسی طرح ایک کونے میں دوتین نوٹس بھی نظر آئے، دیکھنے پر پتہ چلا کہ یہاں پر آنے والی بسوں کے روٹس اور اوقات ہیں۔ ساتھ ہی اوپر کی جانب ایک چھوٹے سے بورڈ پر ایک نام لکھا ہوا تھاجسے ہم نے ذہن میں بٹھا لیا۔
اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک گول مٹول، خوبصورت سی ، مائل بہ فربہی، پیاری سے حسینہ ہمارے برابر آکر کھڑی ہوگئی اور سامنے لگے ہوئے نوٹس کو غور سے پڑھنے لگی۔
ہم نے سوچا کہ اب ہمیں اس مظہرِ حسن کے ساتھ بات چیت کا آغاز کردینا چاہیے، تاکہ اپنی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ کرسکیں۔ یہ سوچتے ہی پہلے تو پانچ منٹ تک اپنے حواس مجتمع کرتے رہے، پھر ہمت کرکے کھنکارے اور بھررائی ہوئی آواز میں یوں گویا ہوئے۔
’’ معاف کیجیے گا؟‘‘
اللہ جانے یہ سردی کا اثر تھا یا رعبِ حسن کا دبدبہ کہ ہمیں اپنی کپکپاتی ہوئی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی معلوم ہوئی۔
’’ جی فرمایئے؟‘‘ وہ حسینہ فوراً ہماری جانب متوجہ ہوگئی اور اپنی کوئل جیسی آواز میں انگریزی میں گنگنائی۔
’’ کیا اس جگہ کا نام نیو مالے ہے؟‘‘ ہم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
’’جی؟‘‘ اس نے غور سے سننے کی کوشش کی اور پھر ایک خوبصورت اندازِ پریشانی میں کندھے اچکائے۔ جرمنوں کا یوں کندھے اچکانے کا یہ انداز بھی ہمیں بہت پیارا لگا۔ جرمنوں کو جب بھی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی، وہ اسی طرح اپنے کندھے اچکا دیتے ہیں۔
ہم نے کچھ دیر سوچا، اس صورتحال کا ادراک کیا اور پھر فوراً اپنی جیب سے ٹشو پیپر نکال کر اس پر اس جگہ کا نام لکھ دیا۔ جیسے اُس بورڈ پر لکھا ہوا تھا۔
’’ اوہ! نائے میوہلے۔ نائے میوہلے۔‘‘ وہ بیچاری کھل اٹھی۔
پھر ہم نے اسکی آواز کی نغمگی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنا تعارف کروایا اور اسے بتایا کہ ہم ابھی ابھی اس کے ملک میں وارد ہوئے ہیں اور یہ ہمارا اپنے ملک سے باہر کوئی پہلا سفر ہے۔
’’ میرا نام فاطمہ ہے۔ فاطمہ کیتی سی اوغلو!‘‘ اس نے بتایا۔
وہ ایک ترک مسلمان لڑکی تھی اور اپنی پیدائش سے ہی یہاں رہتی تھی۔ یعنی پیدایشی طور پر جرمن تھی۔ پھر کیا تھا۔ ہم نے اس کے ساتھ گپ شپ شروع کردی۔ اسے اس جگہ کا پتہ بتلایا جہاں ہمیں جانا تھا۔ ورنافان سیمنز اسٹراسے کا نام سنتے ہی وہ دوبارہ کھل اٹھی اور اس نے بتایا کہ وہ بھی اسی جانب جائے گی، لہٰذا ہم دونوں کی بس ایک ہی ہے۔
بس آئی تو ہم دونوں اس میں سوار ہوگئے اور ایک ہی سیٹ پر بیٹھ کر ایک دوسرے سے متعلق معلومات بہم پہنچاتے رہے۔ سنٹرم پہنچ کر وہ بس سے اتر گئی اور ہمیں بتلا دیا ہمیں اب سے کوئی تین چار اسٹاپ بعد میں ورنافان سیمنز اسڑاسے پر اترنا ہے اور بس ڈرائیور کو بھی اس بارے میں واضح ہدایات دیتی ہوئی وہ ہم سے رخصت ہوئی۔ ہم نے بھی اس کا بہت بہت شکریہ ادا کیا۔
ایک جگہ بس ڈرائیور نے ہمیں تار دیا جہاں سے ورنافان سیمنز اسٹراسے شروع ہورہی تھی۔ سڑک کے گرد ڈھیروں برف پڑی ہوئی تھی۔ ہم نے اس برف میں چلنا شروع کردیا۔ کافی دور تک اور دوایک چوراہوں کو عبور کرنے کے بعد ہم اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ گئے۔ ہمارا ٹریننگ سنٹر ایک چھوٹی سی عمارت تھی۔ اس عمارت کو اچھی طرح دیکھنے کے بعد ہم واپس مڑے۔ راستے میں سنٹرم پر اترے میکڈانلڈ سے فش فلے اور گرم گرم کافی کا لنچ کیا اور گھر واپس آگئے۔
شام تک بوڑھے میزبانوں کے بیٹی اور داماد بھی آگئےجو ہفتے کا اختتامیہ ( ویک اینڈ) گزارنے کے لیے کہیں گئے ہوئے تھے۔ دونوں انگریزی جانتے تھے اور ہم سے بہت گرم جوشی کس ساتھ ملے۔ ان دونوں سے مل کر ہم نے کافی معلومات بہم پہنچائیں۔
دراصل جرمن بزرگ حضرات انگریزی بالکل نہیں جانتے، جبکہ نوجوان نسل انگریزی سیکھتی ہے۔ جہاں تک بولنے کا معاملہ ہے، اکثر نوجوان واجبی ہی بولنا جانتے ہیں، جبکہ کچھ بہت اچھی طرح بول سکتے ہیں۔ انگریزی بولنے کا رواج بالکل نہیں ہے۔ صرف غیر ملکیوں کے ساتھ انگریزی بولی جاتی ہے۔ چونکہ مشکل سے بولتے ہیں، لہٰذا ہر لفظ صاف صاف ادا کرتے ہیں اور ہمارے لیے ان کی کہی 
ہوئی بات کا سمجھنا قدرے آسان ہوجاتا ہے۔
جرمن لوگوں کو بات کرتے ہوئے سنیں تو وہ مزاج کے بہت اکھڑ لگتے ہیں۔ لیکن ان سے بات کیجیے تو وہ بہت خوش مزاج، مہربان اور مدد کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔ ہمارے ساتھ اکثر یہ ہوا کہ جب بھی ہم کسی لائن میں لگ کر کائونٹر تک پہنچے اور کائونٹر والی خاتون کے ساتھ بات چیت شروع کی اور مشکل میں پھنسے، پیچھے کوئی لڑکی فوراً نکل کر آئی اور ہماری مشکل آسان کردی۔ اسی طرح جہاں پر کسی کو روک کر کوئی سوال پوچھا، انھوں نے بہت خوش مزاجی کے ساتھ جواب دیا اور صحیح رہنمائی کی۔
سفر کی تھکن بہت زیادہ تھی اس لیے ہم سرِ شام ہی سو گئے اور اگلے دن صبح کی خبر لائے۔

Tuesday, October 11, 2011

How NOT to Invite and Welcome Friends to your Home




How NOT to Invite and Welcome Friends to your Home
M. Khalil ur Rahman

Thanks mainly to Facebook, LinkedIn, Twitter and other socialmedia; the world is fast turning into, quite literally, a global village. As a result of this epidemic, you end up with a lot more friends and acquaintances nowadays than you could have ever imagined in the times of Dale Carnegie, who took great pains to write How to Win Friends and Influence People.

Should these friends decide on the frightful prospect of visiting your home, what will you do?  Truly, there is a serious lack of guidance about the manners and etiquettes of welcoming such friends to your house. Hence, this thoughtful writer has decided to take on this noble task and enlighten you in this very urgent matter.

Unlike the technique adopted by our great friend Mr. Dale Carnegie, all inferences here have been deduced from great literary works of English and American fiction. If due attention and encouragement is given to this outline-work, the humble author can enhance this research to a full blown paper and enroll himself for a well deserved Ph.D.

A True and Devoted Friend
Before going into further details of the matter at hand, it is deemed best, considering the delicate nature of the subject, to first define the term 'Friend'.

A popular saying in Urdu claims that every person shaking your hand cannot be considered your ‘Friend.’. For a more perfect definition of the term we turn to Oscar Wilde:

‘Indeed I know of nothing in the world that is either nobler or rarer than a devoted friendship.’
‘And what, pray, is your idea of the duties of a devoted friend?’Asked a green linnet.
‘What a silly question!’ Cried the Water-rat. ‘I should expect my devoted friend to be devoted to me, of course.’
‘And what would you do in return?’
‘I don't understand you’, answered the Water-rat.



Discouraging your friends’ approach to your ‘Home’
After consulting some literary giants, here’s a compendium of advice:

   1. To keep trespassers away, here’s an excellent example:
“A notice appeared on the gate at Bag End: NO ADDMITTANCE EXCEPT ON PARTY BUSINESS. Even those who had or pretended to have Party Business were seldom allowed inside. Bilbo was busy: writing invitations, ticking off answers, packing up presents, and making some private preparations of his own.
(The Lord of the Rings: The Fellowship of the Ring by J.R.R. TOLKIEN)


2. Some times people try to make your acquaintance just outside your door. In that case, we find some very handy advice in Harper Lee’s Novel.
              
“Hey.”
 “Hey yourself,” said Jim pleasantly.
“I’m Charles Baker Harris, he said. “I can read”.
“So what?” I said
“I just thought you’d like to know I can read. You got anything needs readin’ I can do it…”
“How old are you,” asked Jem, “four and a half?”
“Going on seven.”
“Shoot, no wonder, then,” said Jem jurking his thumb at me. “Scout yonder’s been reading ever since she was born, and she ain’t even started to school yet.”
(To Kill a Mocking Bird by HARPER LEE)

3. If the above stated technique does not work, you can further discourage the pursuer by employing a slightly changed tactic as shown in the following paragraph,

“You look right puny for goin’ on seven.”
“I’m little but I’m old,” he said.
Jem brushed his hair back to get a better look. “Why don’t you come over Charles Baker Harris?” he said. “Lord! What a name.”
“’s not any funnier’n yours. Aunt Ratchel [MSOffice2] says your name’s Jeremy Atticus Finch.”
Jem scolded[MSOffice3] ,” I’m big enough to fit mine.” He said “Your name’s longer’n you are. Bet it’s a foot long.”
(To Kill a Mocking Bird by HARPER LEE)



When the Intruder actually comes into the house
It may come to pass that even after all these highly professional techniques, the intruder actually succeeds in entering the house. In this case, we have to take stern action, like the one elaborated in the following two cases

1.      As suggested by the paragraph from “Wuthering Heights”;

Thrush cross Grange is my own, sir,’ he interrupted, wincing. ‘I should not allow anyone to inconvenience me, if I could hinder it__ walk in!’
The ‘walk in ‘was uttered with closed teeth, and expressed the sentiment, ‘Go to the Deuce’: even the gate over which he leant manifested no sympathizing movement to the words; and I think that circumstance determined me to accept the invitation.’
[MSOffice4] (Wuthering Heights by Emily Brontë)

2.      The same principle is further manifested in the next few lines;

When he saw my horse’s breast fairly pushing the barrier, he did pull out his hand to unchain it, and then sullenly preceded me up the causeway, calling, as we entered the court, __’Joseph, take Mr. Lockwood’s horse; and bring up some wine.’
 ‘Here we have the whole establishment of domestics, I suppose,’ was the reflection, suggested by this compound order.
(Wuthering Heights by Emily Brontë)

3.      Miss Brontë is not the only one to elaborate this point. We can find the same treatment in Mr. Henry James’ novel as follows;

“Have you come to look at the house?” Isabel asked.” The servant will show it to you.”
“Send her away. I don’t want to buy it. I suppose you are one of the daughters?”
Isabel thought she had very strange manners.
“It depends upon whose daughters you mean.”
 “The late Mr. Archer’s___ and my poor sister’s.”
“Ah”, said Isabel, slowly, “You must be our crazy Aunt Lydia!”
(The Portrait of A Lady by Henry James)

When you are forced to bring your friend with you to your household
There are circumstances when the unpleasant duty of bringing your friend to your household is bestowed (read: forced) upon your self. You can deal with this type of situation by just leaving the friend to find out on their own how welcome they are.

The young lady seemed to have a great deal of confidence, both in her self and in others; but this abrupt generosity made her blush. “I ought to tell you that I am probably your cousin.”

“Probably?” the young man exclaimed, laughing. “I supposed it was quite settled. Have you come with my mother?”

“Yes, half an hour ago.”

“And has she deposited you and departed again?”

“No, she went straight to her room; and she told me that if I should see you, I was to say to you that you must come to her there at a quarter to seven”
(The Portrait of A Lady by Henry James)


When you actually are in dire need of your friend
Sometimes it happens that your hunger and your blood-thirsty throat is getting hold of you and at this very instance your guest arrives and you gleefully plan to suck the life blood out of him.How do you treat your friend then?

“Welcome to my house! Enter freely and of your own free will.”
“Welcome to my house. Come freely. Go freely. And leave something of your happiness you bring.”
“I am Dracula. And I bid you welcome, Mr. Harker, to my house. Come in; the night air is chill, and you must need to eat and rest.”
(Dracula by Bram Stoker)

CONCLUSION
After all said and done, at times you actually are able to achieve what you had set out to do. Consider the scenario that after reading this very article, you painstakingly act upon it, word for word, and as a result you get rid of all your friends and become very un-popular. This bleak picture can be altered and made to shine through the use of not some extra judicial or supernatural faculties but PHILOSOPHY. ‘Seeing is believing’, they say, so we would like to do the same and show you the brighter side.

So long as I draw breath and have my faculties, I shall never stop practicing philosophy and exhorting and elucidating the truth for everyone that I meet… And so gentlemen… whether you acquit me or not, you know that I am not going to alter my conduct, not even if I have to die a hundred deaths.


… the philosopher had not buckled before unpopularity and the condemnation of the state. He had not retracted his thoughts because others had complained. Moreover his confidence had sprung from a more profound source that hot-headedness or bull-like courage. It had been grounded in philosophy. Philosophy had supplied Socrates with conviction in which he had been able to have rational, as opposed to hysterical, confidence when faced with disapproval.
(Chapter One: The consolations of Unpopularity, from
The Consolations of Philosophy by Alain De Bottom)

In simple English it would mean that after having faced unpopularity one must study Philosophy. If you think it is very difficult and confusing, hark, there’s guidance there too! Why not read the sugar-coated pill instead (also known as “Sophie’s World by Jostien Gaarder”)? May God have mercy on your soul.