Wednesday, October 1, 2014

ریاضی سیکھنے کا بنیادی قاعدہ​

ریاضی سیکھنے کا بنیادی قاعدہ
محمد خلیل الرحمٰن
پیر و مرشد جناب یوسفی ایک جگہ رقم طراز ہیں۔
’’ ساتویں جماعت میں جب ہمیں انگریزی میں سو میں سے ۹۱ اور حساب میں پندرہ نمبر ملے تو ہم نے گردھاری لال شرما سے رجوع کیا۔
کہنے لگاکہ چنتا نہ کرو۔ بچار کرکے کل تک کوئی اُپائے نکالوں گا۔ دوسرے دن اس نے اپنا بچن پورا کیا اور اور حساب میں ۹۱ نمبر لانے کے دو گُر بتائے۔ پہلا تو یہ کہ بھوگ بلاس سے دور رہو۔ آج سے پرتگّیا کرلو کہ امتحان تک برہمچریہ کا پالن کرو گے۔ ہٹیلی کامنائیں یا چنچل بچار ہلّہ بول دیں تو تین دفعہ ’’ اوم ! شانتی ! شانتی! شانتی!‘‘ کہنا۔ اِس سے بیاکل ساگر اور بھڑکتا جوالا مُکھی بھی شانت ہوجاتا ہے۔اوم! شانتی! شانتی! شانتی!
’’ اور یار میاں جی! سادھارن جیون بِتانا سیکھو۔ گرم چیزوں سے ایکدم پر ہیز ۔ گوشت، گرم مصالحے ، گڑ کی گجک اور اردو گجل سے چالیس دِن الگ رہنا۔‘‘
اب یہ شانتی کھنا اور ٹوئینکل کھنا جیسی چنچل اور رسیلی مہیلاؤں کی یاد تھی یا پھر یوم الحساب کا ڈر کہ
اُنھیں تو نیند ہی آئی ’حساب‘ کے بدلے
ادھر یہ امرِ واقعہ ہے کہ مسلمانوں کو حساب سے ایک گونہ چڑ سی ہی رہی ہے۔ ایک بار پھر ہم بسندِ یوسفی عرض کرتے ہیں کہ، ’’ اعمال کے حساب کتاب کا جنجال بھی ہم نے کراماً کاتبین اور متعلقہ آڈٹ منکر نکیر کوسونپ رکھا ہے۔ ‘‘
یوں بھی اچھے ریاضی داں بننے کے لیے حساب میں دلچسپی رکھنا چنداں ضروری نہیں۔ مشہور ہے کہ عالمی شہرت یافتہ ریاضی داں آئن اسٹائن حساب میں کمزور تھا اور ہمیشہ حساب میں ہی فیل ہوتا۔ یقیناً اس کے یوں حساب میں کمزور ہوتے ہوئے کائینات کی عظیم ترین گتھی کے سلجھانے میں اسکی یہودیت کا بڑا دخل رہا ہوگا۔ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے بیٹے سے جو کسی اونچی جگہ سے چھلانگ لگانے کو کہا۔ بیٹا ڈرا تو اس نے کنگ خان کا ڈائیلاگ دہرا دیا ’’ ڈرو نہیں، میں ہوں نا!‘‘ ادھر بیٹے نے چھلانگ لگائی ، ادھر باپ راستے سے ہٹ گیا اور بیٹا اپنی ٹانگ کی ہڈی تڑوا بیٹھا۔باپ نے اسے زندگی کی اہم ترین نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ کبھی اپنے باپ پر بھی بھروسہ نہ کرو۔
یہی کسی پر بھی بھروسہ نہ کرنے کی عادت انھیں ہر ایک شخص، ہر ایک تصور اور ہر ایک اصول کو شک کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ انھیں دو اور دو چار کرنے کی عادت سی پڑ جاتی ہے۔ ادھر مسلمان ہے کہ اللہ کے بھروسے پر ہر شخص ، ہر اصول اور ہر تصور پر بھروسہ کرلیتا ہے۔ 
اس کے علاوہ ایک وجہ اور بھی ہے۔ یہ تین رقمی قانون ( یعنی حساب) ہماری سمجھ سے بالاتر تو ہے ہی، ہم جو نہ تین میں تیرہ میں، اسی تین تیرہ کرنے میں ایسے الجھ جاتے ہیں کہ ہماری کیفیت وہی تین تیرہ نو اٹھارہ کی سی ہوجاتی ہے۔ اب اس تین روزہ زندگی میں کون اتنے کھڑاگ پالے۔ ویسے بھیہ تین گناہ تو اللہ بھی بخش دیتا ہے۔ ہم تو بقول شخصے طول شب ِ فراق ہی ناپتے رہ جاتے ہیں۔
دعویٰ بہت سنا ہے ریاضی میں آپ کا
طولِ شبِ فِراق ذراناپ دیجیے
آج دیکھتے ہیں کہ کیا ریاضی قابلِ اعتبار ہے، یا اپنے پرکھوں کی طرح ہمیں بھی چاہئیے کہ اسے دوسروں پر چھوڑ دیں اور خود کو دیگر حوائجِ ضروریہ میں مصروفِ عمل کریں۔ انگریزی میں ایک سمبل استعمال ہوتا ہے جو کچھ یوں ہوتا ہے ’ ‘ ، اس کا مطلب ہے کہ اس نشان کے دونوں طرف دی گئی مقداریں آپس میں برابر ہیں۔ فرض کیجیے کہ دو نامعلوم مقداریں جنہیں ہم لا اور ما کہہ لیتے ہیں آپس میں برابر ہیں
لا ما
اب اگر دونوں اطراف لا سے ضرب دے دیا جائے تو کیا صورت ہوگی
لا X لالا ما
یا 
لا۲ لا ما
اطراف و جوانب سے ما ۲ منہا کردیا جائے
لا۲ - ما۲ = لا ما ما۲
اب داہنی جانب الجبراء کا فارمولا لگائیے اور بائیں جانب قدر ’ما ‘ مشترک لے لیجیئے
(لا  ما) ( لا + ما ) ما ( لا  ما)
نظر دوڑائیے اور دیکھئیے کہ دونوں جانب ایک قدر مشترک ہے جسے الجبراء کے فارمولے کی مدد سے ختم کیا جاسکتا ہے۔
(لا  ما) ( لا + ما ) ما ( لا  ما) 
یعنی
لا + ما ما یا دوسرے لفظوں میں
ما + ما ما ( پہلی سطر ملاحظہ کیجیے لا ما )
یعنی
۲ ما ما
یا 
۲ ۱
جی کیا فرمایا؟ کیسے ممکن ہے؟ ہم نے آپ کے سامنے اسے ممکن کردکھایا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ آپ کو مزید کنفیوز ( پریشان) کرنے کی خاطر ان مقداروں کو اردو رسم الخط میں لکھ دیا ہے ۔ اب آپ اس تمام کارروائی کو انگریزی میں اور سے بدل دیجیے اور خود ہی جانچ لیجیے۔
یعنی پرکھوں کا عمل درست تھا جنھوں نے حساب کتاب تو ہندو بنئیوں کے سپرد کررکھا تھا اور اپنے ذمے گجل اور ترجموں کا کام تھا۔
یا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ 
ہم ہی میں ہے نا کوئی بات، یاد حساب نہ رکھ سکے
اس کا اپائے کیا ہو۔ اس کارن بھی ہمیں یوسفی صاحب ہی کی جانب دیکھنا پڑے گا، یعنی
’’ حساب میں ۹۱ نمبر لانے کے دو گر:
پہلا تو یہ کہ بھوگ بلاس سے دور رہو۔ آج سے پرتگیّا کرلو کہ امتحان تک برہمچریہ کا پالن کرو گے۔ ہٹیلی کامنائیں یا چنچل بچار ہلّہ بول دیں تو تین دفعہ ’ اوم ! شانتی ! شانتی! شانتی!‘ کہنا، اس سے بیاکل ساگر اور بھڑکتا جوالا مُکھی بھی شانت ہوجاتا ہے۔ اوم! شانتی ! شانتی! شانتی!‘‘
خیال رہے کہ اِس بیچ کہیں شانتی کھنّا یا ٹوئینکل کھنّا نہ یاد آنے لگے۔ ’’پاس ہونا ہے تو برہمچریہ کا پالن کرنا ہوگا۔‘‘
ورنہ بصورتِ دیگر ان صاحبزادے کا سا حال ہوگا جن کا ذکر خیر ہم اپنی گجل میں کیا ہے ، جو ہم نے یارِ محفل کی ضمین میں کہی ہے۔
کاش یہ سال تو لکھ پڑھ کے گزارا ہوتا
امتحانوں میں ہمارے یہ سہارا ہوتا
کارتوس ایک میسر تو ہوا تھا لیکن
اس کو کاپی پہ ذرا ٹھیک اُتارا ہوتا
آج کِس منہ سے کچھ امید رکھیں گے ہم بھی
کبھی آموختہ ہی لب سے گزارا ہوتا
ممتحن آج یہ پرچے بڑے دشوار سہی
سہل ہوجاتے اگر تیرا سہارا ہوتا
گھر نتیجہ لیے آئے ہیں تو ابّا نکلے
کاش اُس روز کسی اور نے مارا ہوتا
جیون میں ایک بار آنا سنگاپور
محمد خلیل الرحمٰن


یوں تو دلشاد بیگم کا دعوت نامہ، ‘‘ جیون میں ایک بار آنا سنگاپور’’


ہمیں کافی عرصے سے دعوتِ گناہ دے رہا تھا، لیکن جس بات نے ہمارے جذبہٗ شوق پر مہمیز کا کام دیا وہ کچھ اور تھی۔ ہوا یوں کہ ہم شب و روز کی یکسانیت سے تنگ آگئے۔ ڈاکڑوں اور طبیبوں کو دکھایا ، مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ جب ہمیں یقین ہوگیا کہ 


مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں


تو علاج کےلیے قدیمی حکما کے نسخوں کو ٹٹولا۔ کرنل شفیق الرحمٰن دور کی کوڑی لائے۔


‘‘ تم اس جمود کو توڑتے کیوں نہیں۔ صبح اٹھ کر رات کا کھانا کھایا کرو، پھر قیلولہ کرو ۔ سہہ پہر کو دفتر جائو، وہاں غسل کرو اور اور سنگل روٹی کا ناشتہ۔ حجام سے شیو کروائو اور حجام کا شیو خود کرو۔۔۔۔’’


یہ بھی کردیکھا، مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ آخر کار تنگ آکر دوہفتہ کی چھٹی کے لیے درخواست داغ دی۔ جواب آیا۔ ‘‘ آپ کی چھٹی کی درخواست نامنظور کی جاتی ہے، اس لیے کہ کمپنی اس عرصے میں آپ کو تربیت کے لیے سنگاپور بھیج رہی ہے۔۔۔’’


کوئی جل گیا، کسی نے دعادی۔ زادِ سفر کا مرحلہ درپیش ہوا تو دوستوں سے مشورہ لیا۔ سیر کے لیے فلاں فلاں جگھیں ہیں۔ خرید و فروخت کے لیے فلاں فلاں، اور کھانے کے لیے فلاں فلاں ریسٹورینٹ۔ اور مساج کے لیے فلاں فلاں سنٹر۔ اور دیکھو، آرچرڈ روڈ سے کچھ مت خریدنا، اور نہ ہی اپنے ہوٹل کےمساج سنٹر سے مساج کروانا، یہ دونوں جگہیں مہنگی ہیں۔ فلاں اسٹریٹ سے بچنا، وہاں رات گیے وہ لوگ اپنا بازار لگاتے ہیں جو ہیوں میں نہ شیوں میں۔


ایک صاحب کہنے لگے، ‘‘ سنگاپور سے مساج ضرور کرواکے آنا’’ ۔‘‘ اور دیکھو! ’’ انھوں نے تاکیداً کہا، ‘‘ واپسی پر جھوٹ نہ کہنا کہ مساج کروا آئے ہو۔ مجھے اسکے تمام لوازمات معلوم ہیں۔ ’’
بھاگے بھاگے ایک اور دوست کے پاس پہنچے اور ‘‘ مساج کے لوازمات ’’ معلوم کیے، تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔
بڑی ردّ و قدح کے بعد، جس زاد سفر کا اہتمام کیا وہ یہ تھا۔ دوستوں کے مشوروں کا سوٹ کیس وزن بیس کلو اور ساتھ سفری بیگ میں کچھ کپڑے وغیرہ۔
ضروری کارروایئوں کے بعد پروانہ اور پرِ پرواز ہمیں عطا کردیے گئے۔  اور یوں ہم اسلام آباد سے سنگاپور کی طرف عازمِ سفر ہوئے۔ راستہ میں ایک کالی بلی راستہ کاٹ گئی تو   ہم نے اس نحوست کے تدارک کے لیے پہلے پشاور جانے کا فیصلہ کرلیا۔  یوں بھی خالہ خالو ہمارے قریب ترین رشتہ دار تھے۔( یہاں ہمارا مقصداسلام آباد میں رہتے ہوئے مکانی فاصلہ  کی قربت ہے)۔
پشاور پہنچے تو  خالہ اور خالو ہمیں دیکھ کر کھل  اٹھے۔  یہ آج سے کوئی بیس بائیس برس اُدھر،  اُن دنوں کا ذکر ہے جب آتش بھی جوان تھا اور ہم بھی۔پہلی پہلی نوکری ملی تھی اور اس سلسلے میں ہم اسلام آباد میں ، اپنے گھر،  کراچی اوراپنے  خاندان سے دور کالے پانی کی سزا کاٹ رہے تھے۔راول جھیل کے اسی کالے پانی میں اپنی گاڑی دھونےکے لیے کبھی کبھی جایا کرتے۔ خیر صاحب خالہ خالو نے دیکھا،  حال چال دریافت کیے، تو ہم پھٹ پڑے۔ فوراً  اگل دیا کہ ہم سنگاپور جارہے ہیں۔ خالو نے حیران ہوکر ہمیں دیکھا اور پھر ہمارے زادِ سفر کی جانب نگاہ کی  ،کہنے لگے۔‘‘ اور میاں۔ تمہارا باقی سامان کہاں ہے۔’’ ہم ہنس دیے ، ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ ہمیں۔ مشوروں کے اس سوٹ کیس کے بارے میں انھیں کیسے بتلاتے۔ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے تو کیا، البتہ سنگاپور کی بے پردہ بیبیوں کے نام آتے تھے،   اور پھر یہ مشورے قابلِ گردن زدنی تو نہیں البتہ قابلِ گرفت ضرور تھے، اور ان پر‘‘ صرف بالغان کے لیے’’ کا ٹیگ لگانا پڑاتھا، اور اس محفل میں ان کا تذکرہ مخرّبِ اخلاق ضرور گردانا جاتا۔
خیر صاحب، خالو جان ہمارے اس مختصر زادِ راہ کو دیکھ کر باغ باغ ہوگئے۔کہنے لگے، ‘‘ اور ایک ہماری بیٹی صاحبہ ہیں، کہ وہ جب دوہفتوں کے لیے آسٹریلیا گئیں تو تین سوٹ کیس ان کے ساتھ گئے اور پانچ سوٹ کیس واپس آئے۔’’
کراچی پہنچے تو کراچی ائر پورٹ پر ہمارے ساتھ دو حادثے پیش آئے۔ دوستوں کے مشوروں کا سوٹ کیس اور پیمانہٗ صبر، دونوں ہی کھوئے گئے اور
چودھری صاحب ہمارے ہم سفر بنا دئیے گئے۔
کراچی پہنچ کر ایک دن کا آرام ملا تو کشاں کشاں گھر پہنچے اور گھر والوں کو یہ مژدہ جاں فزائ سنایا کہ ہم سنگاپور جارہے ہیں۔ گھر والوں نے دعا دی۔
‘‘ شکر ہے کہ اب تمہیں سنگاپور کی نوکری ملی۔ جس طرح پیٹھ دکھاتے ہو اسی چہرہ بھی دکھائو’’۔
‘‘چہرہ تو ہم تین ہفتے بعد ہی دکھا دیں گے۔ تین ہفتے کا تربیتی کورس ہے سنگاپور میں، کوئی مستقل نوکری تو نہیں۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو وہاں کوئی مستقل نوکری تھوڑا ہی تھی، چند ہفتے کی تربیت بھگتا کر واپس لوٹے تھے۔’’
بہرحال یہ خوشخبری بھی اپنی جگہ خوب تھی۔ سنگاپور کا تین ہفتے کا سفر۔ سب خوش ہوئے اور اگلے روز خوشی خوشی ہمیں رخصت کیا۔ہمارے سنگاپور کے سفر کے لیے کمپنی کی جانب سے تھائی ائر کی فلائیٹ پہلے ہی سے بک تھی۔جہاز پر پہنچے تو اندازہ ہوا کہ اک غولِ بیابانی ہے جو ہمیں اڑائے لیے چلا ہے۔ ذکر ان پری وشوں کا اور پھر بیاں اپنا۔ کیا کیا بتایئں اور کہاں تک سنائیں۔ ہم اور چودھری صاحب اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے ان پری وشوں کی بلائیں لیا کیے۔جانے کب جہاز اڑا اور جانے کب بنکاک ائر پورٹ پر پہنچ گیا۔ ہمیں خبر ہی نہ ہوئی۔
ائر پورٹ  پر امیگریشن کاونٹر سے فارغ ہوئے تو رات کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔ اب اگلی دوپہر دو بجے تک کے لیے ہم فارغ تھے۔ فوراً  انفارمیشن سے رجوع کیا اور ان کے مشورے سے رات کے لیے ایک ہوٹل پسند کرلیا اور وہیں پر اگلے دن صبح ایک عدد ٹوور کا انتظام بھی کرلیا۔ٹیکسی پکڑکر ہوٹل پہنچے، اور کمرے میں جاکر اگلی صبح تک یوں انٹا غفیل ہوئے کہ   اگلی صبح ناشتے کے لیے بڑی مشکل سے آنکھ کھلی۔ فوراً تیار ہوکر لاونج میں پہنچے، ناشتے سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ ہمیں ٹوور گائڈ کی آمد کی اطلاع دی گئی۔ ٹوور گائڈ کو دیکھا تو باچھیں کھل گئیں، یہ ایک خوبصورت سی خاتون تھیں۔   ان خوبصورت خاتون کی معیت میں تو ہم کہیں بھی جانے کے لیے تیار ہوجاتے، یہ تو پھر بھی بنکاک کے مشہور بدھ عبادت گاہوں کا  ٹوور تھا۔ آج سے کم و بیش بیس سال پہلے کا بنکاک  ویسے تو یوں بھی بہت خوبصورت تھا، لیکن ان خوبصورت عبادت گاہوں نے تو اسے چار چاند لگا دیے تھے۔  ان تین گھنٹوں میں ہم نے چار عبادت گاہوں کا دورہ کیا جن میں گولڈن ٹمپل اور ٹمپل آف ریکلائیننگ بدھا بہت خوب تھے۔ بدھا کے یہ  سنہری مجسمے جو  ان عبادت گاہوں میں تھے، بہت بلند و بالا تھے لیکن  ہم ان کا موازنہ لاہور میوزیم میں رکھے ہوئے اس مجسمے سے کر رہے تھے جس میں بدھا کو درخت کے ینچے تپسیا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ چھوٹا سا مجسمہ اپنی خوبصورتی اور صناعی کا یقیناً ایک اعلی نمونہ ہے، اور بنکاک کے ان عبادت گاہوں میں بنائے ہوئے یہ عالی شان مجسمے اس کے سامنے ہیچ تھے۔ادھر چھوٹے چھوٹے مجسموں کی شکل میں بدھا کی زندگی کے حالات بھی منقش کیے گیے تھے۔   ایک طرف تو انسانی کاری گری کے یہ اعلیٰ نمو نے تھے اور دوسری طرف انسان تھے جو اپنے ہی بنائے ہوئے ان مجسموں کی عبادت کررہے تھے۔ کتنا بڑا ظلم تھا اس انسان کے ساتھ ، جو انھیں انسانیت سکھانے اور اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیےان کے پاس  آیا اور ان  ظالم لوگوں نے اس کی ہی پوجا شروع کردی۔
ظلم کی اس داستان میں جو ظلم ہمارے ساتھ ہوا وہ  بھی ساتھ ساتھ بیان کرتے چلیں۔ جب ہم سنگاپور کا سفر ختم کرکے واپس پاکستان پہنچے اور یار دوستوں نے اس سفر کا حال دریافت کیا اورسن کر  اس پر تبصرے کیے تو ہمیں حقیقتِ حال کا ادراک ہوا۔دراصل کمپنی والے نوجوان لوگوں کی خواہشات کے عین مطابق انھیں بنکاک میں ایک دن کا حضر عطا فرمایا کرتے تھے،  تاکہ نوجوان اپنے دل کی تسلی کرلیں۔ ہم اور آگے بڑھے اور اس ہوٹل کا تذکرہ کیا جہاں پر ہم نے رات قیام کیا تھا،  تو سننے والوں نے سر پیٹ لیا۔ یہی تو وہ علاقہ تھا جہاں پر ہم  کچھ ‘دل پشوری ’کر سکتے تھے۔
خیر صاحب، ولے بخیر گزشت۔ بنکاک کی سیر سے فارغ ہوئے تو فوراً ہوٹل کا حساب بیباق کیا اور ائر پورٹ کی جانب دوڑ لگائی تاکہ سنگاپورکی جانب عازمِ سفر ہوسکیں۔ باقی سفر جو نسبتاً مختصر تھا آرام سے گزر گیا اور ہم سنگاپور ائر پورٹ پر اتر گئے۔ ائر پورٹ پر پاسپورٹ اور امیگریشن کی لائن میں لگے ہوئے نہایت انہماک سے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے کہ اچانک ایک باوردی آفیسر نے ہمیں لائن سے علیحدہ ہونے کا اشارہ کیا اور اپنے ساتھ لے کر ایک جانب کو چل دیا۔ ہم حیران تھے کہ یا الٰہی یہ ماجرہ کیا ہے، کیوں اس آفیسر نے ہمیں ساتھ لے لیا ہے۔ ابھی ہم اس سے پوچھنے کے لیے اپنی انگریزی کو آواز دے ہی رہے تھے کہ وہ ہمیں لے کر ایک چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوا ۔ سامنے  ایک اور آفیسر کے سامنے ایک پٹھان بھائی  بیٹھے تھے،  یہ بھائی صاحب پشتو اور ٹوٹی پھوٹی اردو کے علاوہ اور کچھ نہ جانتے تھے اور یہاں سنگاپور میں کپڑا خریدنے آئے تھے۔۔ ہم نے فوراً مترجم کے فرائض سنبھال لیے اور ان حضرت سے ان کے بارے میں پوچھ پوچھ کر آفیسر حضرات کو بتانے لگے۔  یہ مسئلہ حل ہوا تو ہم پھر اپنی لائن میں جاکر لگ گئے اور اس طرح سنگاپور کا ایک ماہ کا ویزہ لگواکر ہی دم لیا۔ ادھر چودھری صاحب ہم سے پہلے ہی فارغ ہوکر ہمارا انتظار کررہے تھے۔ ہمارے فارغ ہونے پر وہ بھی ہمارے ساتھ چل پڑے ، ہم دونوں نے اپنا سامان سنبھالا اور ٹیکسی کی لائن میں کھڑے ہوگئے۔  نہایت اعلیٰ درجے کی گاڑیوں کو ٹیکسی کے طور پر کھڑے دیکھ کر ہمارا ماتھا ٹھنکا۔ کہیں ہم وی وی آئی پی یعنی کوئی بہت ہی اعلیٰ شخصیت تو نہیں ہوگئے؟ اپنے بازو پر زور سے چٹکی لی تو درد کی شدید لہر اور ‘سی’ کی اپنی ہی آواز نے ہمیں جتلا دیا کہ ہم خواب نہیں دیکھ رہے ہیں بلکہ  سنگاپور کی ٹیکسی میں سفر کیا چاہتے  ہیں۔ ہم نے اپنی اُسی افلاطونی انگریزی کو آواز دی جس کے ذریعے ابھی ابھی ہم ایک معرکہِ عظیم طے کرکے آرہے تھے اور بھائو تائو کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ خدا جانے یہ ٹیکسی ڈرائیور ہمارے ہوٹل کی جانب جانا چاہتا  ہو یا اس کا ارادہ کسی اور جانب کا ہے؟   کیا جانیے وہ منھ پھاڑ کر کتنے پیسے مانگے؟   کیا ہمیں کوئی سستی ٹیکسی مل سکتی ہے؟    ہم ابھی اسی ادھیڑ بُن میں تھے کہ ٹیکسی ڈرائیور نے بھائو کیا اور نہ تائو،    بلکہ یوں کہیے کہ آئو دیکھا نہ تائو اور نہایت ادب سے ہمارا سامان ڈِگی میں رکھا ، ہمیں گاڑی میں بٹھایا اور میٹر پرلگے ایک بٹن کو دبا کر چلنے کے لیے تیار ہوگیا۔
اور صاحبو! یوں ہم ‘ اپر  بوکے تیما روڈ’  پر واقع ‘ نووٹیل آرکڈ   اِن’  نامی ایک نہایت عالیشان ہوٹل میں پدھارے۔بکنگ کلرک مصروف تھا۔ اس نے نہایت ادب سے ہمیں ایک میز کی جانب بلایا اور ہمیں بٹھا کر ایک سنگاپوری حور کو آواز دی، وہ حسن کی دیوی فوراً ہماری جانب لپکی اور اپنی ایک ٹانگ  لبادے سےنکال،   کاغذ پینسل سنبھال ، ہمارا آرڈر لینے کے لیے تیار ہوگئی۔ ہم نے کنکھیوں سے اس شمشیرِ برہنہ کی جانب دیکھتے ہوئے اک شانِ بے نیازی کے ساتھ آرینج جوس کا حکم صادر فرمایا۔ چودھری صاحب نے بھی کنکھیوں سے ہماری طرف دیکھتے ہوئے  ‘وہی وہی’  کی آواز نکالی۔ حسنِ بے پروا نے فوراً اپنے کاغذ پر کچھ لکھا اور اسے لپیٹتی ہوئی آگے چلدی۔ ہم  یوں چونکے گویا ابھی ابھی ہماری آنکھ کھلی ہو۔ ہم نے چونک کر چاروں جانب دیکھا۔ ہمارے اطراف  رنگ و نور کی اک عجیب دنیا پھیلی ہوئی تھی۔ تو یہ سنگاپور ہے، ہم نے ترنگ میں آکر سوچا۔
ہم نے آرینج جوس کے ہلکے ہلکے گھونٹ لیتے ہوئے چیک اِن کیا اور اپنےاپنے کمرے میں جاکر ڈھیر ہوگئے۔ ایک ڈیڑھ گھنٹہ بعد جب ہوش ٹھکانے لگے اور رات کی بے آرامی کا کچھ مداوا ہوا تو دوپہر کے کھانے کا خیال دل کو ستانے لگا۔ ہوٹل کا کھانا بہت مہنگا پڑتا لہٰذا دونوں دوست ہوٹل سے نکلے اور کسی سستے ریسٹورینٹ کی تلاش شروع کی۔ دور دور تک ایسے کسی ریسٹورینٹ کا پتہ نہ چلا تو تھک ہار کر واپس ہوئے ہی تھے کہ ایک اسٹور پر نظر پڑی۔ چودھری صاحب نے مسکرا کر ہمیں معنی خیز نظروں سے  دیکھا گویا کہہ رہے ہوں، ‘‘ اب دیکھو ! میں کیا کرتا ہوں۔’’،  ایک عدد ڈبل روٹی خریدی اور ہمیں لیے ہوئے اپنے کمرے کی جانب آگئے۔ کمرے میں پہنچ کر دروازہ لاک کیا اور اپنے سوٹ کیس میں سے ایک عدد بجلی کی ہیٹنگ  راڈ  برآمد کی،  اسے  قریب ترین بجلی کے ساکٹ میں لگا کر اس کا سرا ایک پانی کے برتن میں ڈال دیا ۔ پانی گرم ہونا شروع ہوا،  اتنے میں انھوں نے اپنے سوٹ کیس سے‘ احمد’ کا کوفتوں کے سالن کا سربند کین نکالا،  اسے پانی میں رکھ کر خوب گرم کیا اور اسے کھول کر پلیٹ میں ڈال دیا۔ اس طرح ہم نے اس دوپہر اپنی بھوک مٹائی اور سیر کے لیے نکل پڑے۔  آج اتوار تھا اور ہم نے سن رکھا تھا کہ سنگاپور میں ایک جگہ ‘ لٹل انڈیا’  نامی بھی ہے جہاں ہندوستانی کھانوں کے سستے ریسٹورینٹ موجود ہیں نیز یہ کہ وہاں پر دکانیں اتوار کے دن بھی کھلی رہتی ہیں۔
بس کے ذریعے سرنگون روڈ کے اسٹاپ پر اترے تو کچھ اور ہی سماں تھا۔ ہر طرف سجی سجائی  ہندوستانی طرز کی دکانیں موجود تھیں جن میں قسم قسم کی ہندوستانی اشیائ فروخت کے لیے موجود تھیں ۔کہیں زرق برق بھڑکیلی ، بنارسی ہندوستانی ساڑھیاں اور دیگر ہندوستانی کپڑے ، کہیں سونے اور چاندی کے جڑائو زیور۔کہیں ہندوستانی موسیقی پر مبنی کیسٹ اور سی ڈیاں ۔ اور ان دکانوں کے درمیان خالص ہندوستانی کھانے سرو کرتے ریسٹورینٹ۔کہیں  روا  ڈوسا اور مسالہ ڈوسا، کہیں اڈلی  وڑہ،  کہیں تھالی ریسٹورینٹ ، جہاں پر آپکی پسند کے مطابق اسٹیل کی تھالی میں  یا کیلے کے پتے پر کھانا دیا جاتا ہے۔کہیں صرف ویجیٹیرین یعنی سبزیوں والے کھانے ، کہیں بسم اللہ بریانی ۔کہیں ہندوستانی مٹھائیاں۔چوک سے چلنا شروع کیا تو ایک جگہ ‘مصطفےٰ اینڈ شمس الدین کی دکان نظر آئی۔ یہ ان کی سب سے پرانی دکان ہے۔  نظارہ کرتے چلے تو لطف آگیا۔ یوں تو اس سڑک کا نام سرنگون روڈہے لیکن اطراف میں چونکہ ہر طرف ہندوستانی آباد ہیں اور ان ہی کی دکانیں نظر آتی ہیں ، لہٰذا   اسے  لٹل انڈیا یعنی‘ چھوٹا ہندوستان’ کہا جاتا ہے۔  یہ بازار یونہی پھیلتا ہوا اگلے چوک تک پہنچتا ہے جہاں پر اُس زمانے میں سرنگون پلازہ میں مصطفےٰ اینڈ شمس الدین کا بڑا اسٹور ہوتا تھا،  اب اس جگہ،   اس سے بھی بڑا مصطفےٰ سنٹر ہے۔مصطفےٰ سنٹر اب ایک بہت بڑا ملٹی اسٹوری ڈیپارٹمنٹل اسٹور ہے جہاں ضروریاتِ زندگی کی تقریباً ہر چیز ملتی ہے۔آجکل،  جب سے زمین دوز ٹرین ( جسے مقامی لوگ  ایم آر ٹی یعنی    ماس ریپڈ ٹرانزٹ کہتے ہیں) چلی ہے اس کے دو اسٹیشن سرنگون روڈ پر ہیں۔ ایک  بکے تیما  روڈ اور سرنگون روڈ کے  سنگم پر اور دوسرا مصطفےٰ سنٹر سے صرف چند قدم کے فاصلے پر۔سرنگون روڈ پر چلتے ہوئے    راستے میں ایک ہندو مندر اور مصطفےٰ سنٹر کے عین سامنے انگولیا مسجد واقع ہے ،بھی نظر آتے ہیں۔  اتوار کو تو یوں لگتا ہے گویا سڑک پر ایک جلوس چل رہا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان سے آنے والے زیادہ تر اسی علاقے میں پہنچ کر کھانا کھاتے ہیں اور اپنی زیادہ تر خریداری یہیں سے کرتے ہیں۔ بسم اللہ ریسٹورینٹ میں ایک بزرگ ویٹر کے طور پر کام کرتے ہیں ،  ان سے گفتگو کی تو پتہ چلا کہ ‘مصطفےٰ بھائی’ ہندوستان سے آئے تو  شروع میں ایک ٹھیلا لگاتے تھے، ایک صاحب اپنی دکان بیچ کر ہندوستان جارہے تھے۔  مصطفےٰ بھائی نے ان سے دکان خرید لی۔ اللہ نے برکت دی اور کاروبار اتنا بڑھا کہ اب ماشائ اللہ مصطفےٰ سنٹر چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے اور روزآنہ ہزاروں خریدار خریداری کے لیے آتے ہیں اور لاکھوں کی خریداری کرتے ہیں۔
وہیں سے کٹ مارا اور سیدھے ہاتھ کی طرف ہولیے۔ چلتے چلتے راستے میں عرب اسٹریٹ نظر آئی، دیکھ کر دل خوش ہوا ، وہیں سے نظر گھمائی تو دل پہلو میں رکتا ہوا سا محسوس ہوا۔ نظروں کے سامنے ایک انتہائی خوبصورت مسجد موجود تھی۔ تیز تیز چلتے ہوئے اس مسجد تک پہنچے۔ اس خوبصوت اورعالی شان  مسجد کا نام ‘‘ مسجد سلطان’’  ہے۔مسجد باہر سے جتنی خوبصورت نظر آتی ہے، اندر سے بھی اتنی ہی خوبصورت ہے۔  اندر جاکر دو رکعت نمازِ عصر قصر پڑھی، کچھ تصویریں اندر باہر سے کھینچیں اور پھر عرب اسٹریٹ پر نظر کی تو یہاں کئی ملائین مسلم ریسٹورینٹ دکھائی دیئے جو انڈا پراٹھا قسم کی کوئی چیز بنا رہے تھے۔ اس ڈش کا نام مرطباق ہے۔ چائے کے ساتھ مرطباق کھایا۔ بہت لذیذ تھا۔ واپس اسی راستے سے لوٹے اور سرنگون روڈ پہنچے اور دیر تک وہاں ٹہل لگاتے رہے۔ 
راستے میں ایک جگہ ایک ریسٹورینٹ پر‘‘ عظمی ہوٹل’’  لکھا ہوا دیکھا تو قسمت آزمانے کا خیال آیا۔ پار سال جب ہم جرمنی گئے تھے تو وہاں پر کسی بھی ریسٹورینٹ میں کھانا کھانے سے پہلے حلال وغیرہ سے متعلق پوچھ لیا کرتے تھے۔ یہاں بھی خیال آیا کہ پہلے دل کی تسلی کرلی جائے اس لیے اسی عظمی ہوٹل کے کاونٹر پر جاکر ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا یہاں حلال کھانا ملتا ہے۔ کرتا پائجامہ میں ملبوس ایک مولانا کاونٹر پر کھڑے تھے، برا مان کر بولے۔
‘‘عظمی ہوٹل نام ہے، سب کام کرنے والے یہاں مسلمان ہیں اور یہاں پر ہر کھانا حلال ہے۔’’
 دل کو تسلی ہوئی تو ہم نے رات کا کھانا وہیں سے کھایا اور بس میں بیٹھ کر ہوٹل واپس لوٹ گئے۔ دروازے سے اندر آتے ہی کئی کارڈوں پر نظر پڑی جو دروازے کے نیچے سے کمرے میں ڈالے گئے تھے۔ یہ کارڈ مختلف مساج سنٹرز سے متعلق تھے۔ انھیں ردی کی ٹوکری میں ڈالا اور کمرے میں ادھر ادھر نظر ڈالی۔ کمرے  میں موجود  ریفریجریٹر کے قریب بجلی کی کیتلی اور ساتھ ہی ایک طشت میں  دو عدد چائے اور دو عدد کافی کا انتظام تھا جو ہوٹل کی جانب سے مفت تھا۔ مزے سے چائے بنا کر پی ،    آنے والے کل کی تیاری کرکے بستر پر لیٹ گئے اور ٹیلیویژن سے دل بہلانے لگے۔ چیک اِن کے ساتھ ہی کمپنی کی جانب سے ایک خط ہمیں مل چکا تھا کہ اگلے روز ایک بس ہمیں ہوٹل کی لابی سے لیکر ٹریننگ سنٹر تک لیجائے گی، لہٰذا اس طرف سے اطمینان تھا۔ سفر کی تھکن اب تک محسوس ہورہی تھی  اس لیے لیٹے تو اگلے ہی لمحے گہری نیند نے ہمیں آدبوچا۔جانے کب تک سوتے رہے۔ اچانک ٹیلیفون کی مسلسل  گھنٹی کی آواز سے بیدار ہوئے۔ کچھ دیر تک تو سمجھ ہی میں نہ آیا کہ ہم کہاں  ہیں اور اس وقت کے بجے ہیں۔ حواس باختہ سے لیٹے رہے۔ بارے کچھ سکون ملا تو رسیور اٹھا کر ‘‘ ہیلو!’’ کہا۔
کسی خاتون کی میٹھی سی آواز سنائی دی۔وہ انگریزی میں کچھ کہہ رہی تھیں۔ آپ نے ہمیں بلایا؟
ہمارے حواس دوبارہ گم ہوگئے۔ بڑی مشکل سے انھیں پھر سے مجتمع کیا اور نہایت تلخ لہجے میں جواب دیا۔ جی نہیں۔ ہم نے آپ کو کال کیا نہ بلایا۔ اور رسیور کریڈل پر پٹخ کر دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگے۔ پھر اٹھے، حوائج ضروریہ سے فارغ ہوکر ٹیلیویژن کو بند کیا۔ لائٹ بند کی اور کافی دیر تک دھڑکتے دل کو سنبھالنے کی کوشش کرتے رہے۔


Monday, March 4, 2013

المانیہ او المانیہ۔ قسط نمبر چار

المانیہ او المانیہ۔جرمنی کی سیر
محمد خلیل الرحمٰن 
(قسط نمبر چار)

اسی کشمکش میں گزریں مری جرمنی کی راتیں
کبھی کچھ حسین چہرے، کبھی ان کی شوخ باتیں
خبردار ! بلکہ ایک مرتبہ پھر خبردار!۔ کہیں شاعرِ مشرق کے ساتھ ہماری اس برجستہ گستاخی سے کوئی اور مطلب نہ نکال لیجیے گا۔ ہم تو ( غالب کی روح سے معذرت کے ساتھ) صرف اس بات کے قائل ہیں کہ
نیند اس کی ہے! دماغ اس کا ہے! راتیں اس کی ہیں
تیری زلفیں جس کے خوابوں میں پریشاں ہوگئیں

جمعہ کی صبح ہمارے لیے ، خوشی و غم کے ملے جلے جذبات لے کر آئی۔آج جرمنی میں ہمارے پہلے کورس کا اختتام تھا اور اس حوالےسے جہاںہمیں اپنے پرانے دوستوں کے بچھڑنے کا غم تھا وہیں بابو کی آمد اور نئے دوستوں سے ملاقات کی خوشی اور اشتیاق تھا۔ تربیت گاہ پہنچے تو ایک عجیب منظر دیکھا۔کسی منچلے نے تختہٗ سیاہ پر جلی حروف میں ٹی۔جی۔آئی ایف لکھ دیا تھا۔ ہماری کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اس شوخیٗ تحریر کا آخر مدعا کیا ہے۔ ہمارے کینیڈین دوست نے فوراً ہماری مشکل آسان کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ اس کا مطلب ہے، ‘‘تھینک گاڈ اِٹس فرائیڈے یعنی اللہ کا شکر ہے آج جمعہ ہے۔
تب تو ہم فوراً سمجھ گئے۔ دراصل مغرب میں ہفتے کا اختتامیہ دودن یعنی ہفتے اور اتوار پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان دو دنوں میں اہل مرکب مکمل تفریح کرتے ہیں، لہٰذا جمعے کا مبارک دن انہیں اس ڈھائی دن کی چھٹی کا مژدہ سناتا ہے۔ ہم نے وہاں برف باری کے دوران منچلے لوگوں کو اپنی فور وہیل ڈرائیو جیپ پر اپنی کھڑی سائیکلیں کسے گھر سے دور پکنک پر جاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
کچھ دوست جو یورپ یا جرمنی ہی کے دوسرے شہروں سے آئے تھے، صبح ہی اپنے ہوٹلوں سے چھٹکارا حاصل کرچکے تھے اور اپنا سارا سامان اپنی موٹر گاڑیوں میں ڈال لائے تھے تاکہ دوپہر کو لنچ کرتے ہی اپنے اپنے ٹھکانوں کو لوٹ جائیں۔ہم پچھلے ہفتے کھائی ہوئی دو دعوتوں کے خمار میں تھے۔ پہلی دعوت ہمارے پیارے دوست ریشارڈ شغم نے صرف ہمیں دی تھی اور دوسری دعوت ہمارے ریجن کے منتظم نے اپنے تمام مہمان طالب علموں کو دی تھی۔ ان دونوں حسین شاموں کا تذکرہ بھی اب ہمارے لیے ایک میٹھی میٹھی ، لذت انگیز ، درد بھری کسک کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ یہ دنیا اچھے ، ملنساراور دوست لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ جب بھی دو انسان کچھ دنوں کے لیے ایک دوسرے کے قریب وقت گزارتے ہیں، لازمی طور پر ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں۔ وہ لوگ ایک دن ہمیں ضرور یاد آتے ہیں اور بے طرح یاد آتے ہیں۔ ہمیں آج یہ واقعات لکھتے ہوئے نہ صرف اپنے وہ دوست یاد آرہے ہیں بلکہ اپنے سنڈک ری اسکول کے ایک استاد کا ہماری آٹو گراف بک پر لکھا ہوا یہ شعر بھی یاد آرہا ہے۔
فرصت نہ دیں گے یوں تو غمِ زیست ایک پل
کچھ دن تمہاری یاد مگر ، آئے گی ضرور
ایک دن صبح ہی ریشادڈ نے ہمیں اپنے گھر پر رات کے کھانے کے لیے دعوت دے ڈالی اور ہم نے لگے ہاتھوں، بصد شکریہ اس دعوت کو قبول بھی کرلیا۔سہ پہر پانچ بجے جب اسکول کی چھٹی ہوئی تو ہم بھی اس کے ساتھ اسکی موٹر گاڑی میں بیٹھ گئے اور وہ ہمیں لے کر کشاں کشاں حلال گوشت کی تلاش میں نکلا۔ ایک جگہ حلال گوشت مل گیا تو وہ ہمیں اپنے جلو میں لیے ہوئے اپنے فلیٹ پر پہنچا اور فوراً ہی باورچی خانے میں جاکر ایک عدد پیتزا بنانے کا اہتمام شروع کردیا۔ بز ار دقت پیتزا بن کر تیار ہوا ، اس نے دو عدد موم بتیاں روشن کیں اور انھیں میز پر سجاکرہم دونوں نے مزے لے لے کر مزیدار پیتزا کھانا شروع کیا۔ یورپ میں رات کے کھانے کے وقت موم بتیوں کا استعمال بھی خوب ہے۔ اسے کھانا کھاتےوقت ماحول کی ایک خوشگوار تبدیلی سمجھا جاتا ہے۔ آپ جیسے ہی کسی ریستوران میں اپنی میز پر پہنچتے ہیں، ایک خوبصورت سی میزبان آگے بڑھ کر آپکی میز پر رکھی ہوئی موم بتیوں کو روشن کردیتی ہے اور فورا ً آپ کا آرڈر لینے کے لیے ہمہ تن گوش ہوجاتی ہے۔ اگر کسی نے آپ کو اپنے گھر پر دعوت دی ہے تو وہاں پر بھی کھانا شروع کرنے سے پہلے کھانے کی میز پر موم بتیاں روشن کردی جاتی ہیں۔ چاہنے والوں کے لیے تو کینڈل لائٹ ڈنر ایک خوبصورت اور معنی خیز دعوت ہوتی ہے۔ 
ہم دونوں اس لذیذ پیتزا کا مزا بھی لے رہے تھے اور دنیا جہان کے موضوعات پر باتیں بھی کررہے تھے۔دورانِ گفتگو ہم نے اس سے ایک انتہائی ذاتی قسم کا سوال کرڈالا۔ ہم نے اس سے بے تکلفانہ انداز میں اس سے اس کے سنگل ہونے کا راز پوچھا۔ 
بغیرشرمائے اس نے بتایا کہ حال ہی میں اسکی اپنی گرل فرینڈسے علیحدگی ہوچکی ہے۔
ہم نے اسکے اس جواب سے ہمت پکڑی اور فوراً حملہ کردیا‘‘ اس کی وجہ؟’’
ریشارڈ نے اس بات کا بھی برا نہ منایا اور بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یوں گویا ہوا۔
‘‘دراصل ہمارے تعلقات اس حد تک آگے بڑھ چکے تھے کہ ہم اپنی شادی کے ممکنات پر بھی غور شروع کرچکے تھے۔’’
‘‘واقعی؟ پھر کیا ہوا؟’’ ہم نے خوش ہوتے اور اس نازک صورتحال میں مزید دلچسپی لیتے ہوئے سوال کیا۔’’
‘‘ پھر یوں ہوا کہ اس نے میرے سامنے اپنے ماں باپ کی مرضی کے مطابق یہ مطالبہ رکھ دیا کہ شادی کے بعد ہم دونوں اسکے ماں باپ کے گھر پر رہیں گے۔’’
‘‘پھر کیا ہوا؟’’
‘‘ مجھے یہ بات منظور نہیں تھی۔ میں چاہتا تھا کہ شادی کے بعد ہم دونوں یہاں اس فلیٹ میں رہیں۔’’
‘‘تو کیا اس نے تمہاری تجویز سے اتفاق نہیں کیا؟’’
‘‘نہیں۔ ہم دونوں میں اس بات پر اتفاقِ رائے نہ ہوسکا اور ہم علیحدہ ہوگئے۔’’
‘‘بہت افسوس ہوا یہ سن کر۔’’ ہم نے اس کے ساتھ ہمدردی جتائی۔ آخر کو وہ ہمارا گہرا دوست تھا۔
‘‘افسوس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اب میں نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ اگلی مرتبہ اپنی کسی گرل فرینڈ سے شادی کے بارے میں سوچنے سے پہلے میں اس کے ساتھ سال چھ مہینے زندگی گزاروں گا تاکہ اسے اچھی طرح سمجھنے کے بعد ہی اس قسم کا کوئی فیصلہ کروں۔’’
‘‘ارے؟’’ ہم حیران رہ گئے۔
وہ شام یونہی اوٹ پٹانگ باتوں میں گزر گئی۔ اگلے دن دورانِ کلاس ہمارے ریجنل منتظم نے ہمیں پیغام پہنچایا کہ شام کو وہ ہمارے اعزاز میں ایک دعوت دے رہےہیں جو سنٹرم کے قریب ایک ریستوران میں ہوگی اور ہمیں چاہیے کہ ہم شام سات بجے وہاں پہنچ جائیں۔
اپنے تئیں ہم ٹھیک وقت پر گھر سے نکلے اور بس اسٹاپ پر پہنچ کر بس کا انتظار شروع کیا۔ اللہ جانے اس دن کیا ہوا کہ ہمیں وہ بس نہیں ملی اور ہم آدھ گھنٹے بعد آنے والی بس پکڑ کر ریستوران پہنچے ۔ لیٹ ہوچکے تھے اس لیے وہاں پر مہتمم صاحب اپنی بیگم صاحبہ و دیگر مہمانوں سمیت نہایت بے چینی کے ساتھ ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ سلام و تعارف اور دیگر رسمی خوشگوار جملوں کے تبادلے کے بعد ہم نے پیش کی گئی کرسی سنبھالی جو مہتمم صاحب کی بیگم صاحبہ کے برابر تھی ، اپنے حواس درست کیے اور اپنے دیر سے آنے کی وجہ بیان کرنے کی کوشش کرڈالی ۔ خیر جرمنی میں بس کے نہ آنے یا دیر سے آنے کا خیال ہی بے معنی ہے، لذٰکا ہماری ساری کوششیں یونہی ٹائیں ٹائیں فش ہو کر رہ گئیں اور بات آئی گئی ہوگئی۔
ہمارے ریجن کے جتنے بھی طالب علم اس وقت شہر میں موجود تھے، انھیں بھی مہتمم صاحب نے دعوت دی تھی، لہٰذا ہمیں ملا کر دعوت میں کل چھ اشخاص تھے۔ ہم چونکہ میزبان خاتون کے پہلو میں بیٹھے تھے، لہٰذاانھوں نے فوراً ہم سےپوچھا کہ ہم کون سا مشروب پینا پسند کریں گے؟ ہم نے اِدھر اُدھر دیکھا، ہماری میز پر ہر طرف بئیر کے گلاس نظر آرہے تھے۔ ہم نے محفوظ ترین مشروب یعنی کافی کا نام لے ڈالا۔ خاتون پریشان سی ہوگئیں اور ہم سے پوچھا کہ کیا واقعی ہم بئیر نہیں پئیں گے ؟ 
ہائے رے مجبوری۔
اول شب وہ بزم کی رونق ،شمع بھی تھی ، پروانہ بھی
یعنی موسم تو عاشقانہ تھاہی، میخانہ بھی گرم تھا، ساقی بھی ساقی گری کی لاج رکھنے کے لیے تیار تھا، ایک ہم ہی پینے والے نہ تھے۔
ہم نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ہم شراب نہیں پیتے اس پر ان خاتون کی پریشانی میں اور اضافہ ہوگیا اور انھوں نے ہمیں وائن کی پیشکش کردی۔ ہم نے دل ہی دل میں مسکراتے ہوئے ، ان سے کہا کہ اے نیک دل خاتون، وائن بھی شراب ہی ہے لہٰذا ہم الکوحل سے پاک کوئی مشروب ہی پی سکتے ہیں۔ تب اس نیک دل خاتون نے ہماری توجہ آرنج جوس کی طرف دلائی تو ہم نے فوراً حامی بھرلی۔ ان کی جان میں جان آئی کہ مہمان خوش ہوا اور انھوں نے ایک گلاس آرنج جوس کا آرڈر کردیا۔ ادھر مہمان کی بھی جان میں جان آئی کہ یہ معاملہ بحسن و خوبی حل ہوا۔ چونکہ محفل کے دیگر تمام شرکا بے چینی کے ساتھ ہمارا انتظار کررہے تھے، لہٰذا ہماری آمد آمد کے ساتھ ہی کھانے کا آرڈر دیا گیا۔ اِدھر ایک مرتبہ پھر ہمیں دخل در معقولات کرنی پڑی اور ہم نے انھیں بتایا کہ ہم مذہبی طور پر چونکہ خنزیر کے گوشت یا گائے کے بغیر حلال کیے ہوئے گوشت سے پرہیز کرتے ہیں لہٰذا ہم صرف سمندری غذا یا سبزی پرہی گزارا کریں گے۔ اب تو تمام دوستوں نے نہایت دلچسپی کے ساتھ اس کوشش میں حصہ لیا اور ہمارے لیے کھانے کی ڈش کا انتخاب کیا۔یہ مشق بھی خوب تھی اور یاروں نے اس سےخوب ہی لطف اٹھایا۔ مینو کارڈ منگوا کر ہر ہر آئیٹم کا بغور جائزہ لیا گیا ، اس کی جزئیات کو دیکھا گیااور مآلِ کار کچھ ایسی ڈشز مل ہی گئیں جو ہمارے معیارِ انتخاب پر پوری اترتی تھیں۔ڈنر کا آرڈر دیا گیا اور اس مشکل صورتحال سے بھی بخیر و خوبی نکلے تو ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنی میزبان خاتون سے باتیں شروع کیں ، کچھ اپنی کہی اور کچھ ان کی سنی، اور اس طرح اس حسین شام کے طویل گھنٹے ہمارے لیے مختصر ہوگئے ۔ ہم نے باتوں باتوں میں ان خوبو رت جرمن خاتون سے جرمن تہذیب و تمدن اور ثقافت کو سمجھنے کی کوششیں شروع کیں اور انہیں اپنی مشرقی روایات سے آگاہ کرنا شروع کیا تو ہم خودکھوئے سےگئے۔ ہم ان باتوں میں یوں کھوئے کہ اپنا آپ بھولے اور رات گئے ہوش آیا۔ دونوں میزبانوں نے ہم چاروں مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ ادھر ہم نے بھی اپنے دونوں میزبانوں اور خاص طور پر اپنی حسین میزبان کا شکریہ ادا کیا کہ جن کی بدولت اس قدر حسین شام ہمارے حصے میں آئی اور رات بارہ بجے کی بس پکڑ کر اپنے کمرے کو سدھارے۔
خیر صاحب اس طرح جمعہ یعنی ہمارے اس کورس کا یومِ آخر بھی آگیا۔ اپنی کلاس میں پہنچ کر اسامد صاحب کے آنے تک ہم نےخوب جی بھر کر انےہ دوستوں کے ساتھ گپ شپ کی۔ دوپہر بارہ بجے تک ہم سب تجربہ گاہ کوسمیٹ کر اور اپنےاساتذہ سے اپنی اپنی اسناد لے کر فارغ ہوچکے تھے۔ ہم آخری مرتبہ اپنے تمام دوستوں سے ملے اور دل پرایک بھاری بوجھ لیے ان سب سے رخصت ہوگئے۔ 
اب ہم تھے اور ہماری تنہائی۔ اب ہمیں ڈھائی پہاڑ سے دن اس غیر ملک میں تنِ تنہا گزارنےتھے۔ اس پر طرہ یہ کہ بابو کا انتظار کرنا تھا۔ اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے وطن سے نکلے اور اس غیر ملک میں پورے تین ہفتے، اپنی مادری زبان بولے بغیر ، اپنے گھر والوں اور اپنے ہم وطنوں کو دیکھے بغیر گزار چکے تھے اور اب انگریزی بولتےبولتے اور پشتونما جرمن سنتے سنتے تھک چکے تھے۔ اِدھر ہمیں یہ مژدہ جاں فزا بھی سننے کو مل چکا تھا کہ اگلےدوہفتےیعنی اگلی کلاس میں ہمارے یارِ جانی عرف بابو بھی ہمارے ساتھ ہوں گے۔ یوں یہ دودن کا انتظار بھی کافی جان لیوا ثابت ہورہاتھا۔
وہ سہہ پہر ہم نے بازار میں گزاری اور بابو کے شایانِ شان کوئی کھانے کی شے کھوجتے رہے۔ بالآخر طے کیا کہ ایک اچھے دوست کے لیے چاکلیٹ سے بہتر اور کوئی تحفہ توہو ہی نہیں سکتا اور ایک دکان سے باؤنٹی چاکلیٹ کے پانچ عدد چھوٹے پیکٹ مول لے لیے۔بازار ہم گئے تھے، اک چوٹ مول لائے۔ہفتے کے اختتامیے کے بعد بروزِپیرجب بابو سے ملاقات ہوگی تو ہم انھیں کھانے کے یہ میٹھے اور ذائقے دار چاکلیٹ پیش کریں گےتو وہ ہماری دوستی اور خلوص سے کس قدر متاثر ہوں گے۔ہم سا دوست کوئی کہاں سے پائے گا۔ 
ہفتے کے دن ہم دیر تک سوتے رہے ۔تقریباً دوپہر کو نہایت کسلمندی کے ساتھ اٹھے، ناشتہ کیا اور پھر سوگئے۔ اُٹھے تو خیال آیا کہ پانچ چاکلیٹ بہت ہوتے ہیں اور پھر بابو اتنے چاکلیٹ بھلا کب کھاتے ہوں گے، لہٰذا ایک چاکلیٹ نکال کر حضم کرگئے۔ اسی طرح باقی وقت اور اتوار کا پورا دن بابو کا انتظار کرتے رہے اور چاکلیٹ کھاتے رہے، یہاں تک کہ انتظار کی گھڑیاں بھی کٹ گئیں اور چاکلیٹ بھی ختم ہوگئے اور ہم اگلے خوشگوار دن کا تصور اپنے ذہن میں لاتے ہوئےنیند کی وادی میں پہنچ گئے۔

Thursday, November 22, 2012

المانیہ او المانیہ۔ قسط نمبر تین

المانیہ او المانیہ۔ ۔جرمنی کی سیر
ِ المانیہ او المانیہ۔ سیرِ برلن
قسط نمبر (۳)
ہماری بس چیک پوائینٹ چارلی پہنچی تو مغربی جرمنی کی سرحد پر متعین گارڈز نے ہمارے پاسپورٹ کا جائزہ لیا اور ہمیں آگے بڑھنے کا اشارہ کردیا۔ بس رینگتی ہوئی آگے بڑھی اور نو مینز لینڈ سے ہوتی ہوئی مشرقی جرمنی کی سرحد پر پہنچ گئی۔ دیوارِ برلن کو دیکھ کر جو ہیبت ہم پر طاری ہوگئی تھی وہ اور زیادہ گہری ہوگئی۔ مشرقی جرمن فوجیوں نے انتہائی سرعت کے ساتھ بس کو گھیرے میں لے لیا اور اس کی جامع تلاشی شروع کردی۔ تمام مسافروں کے پاسپورٹ چیک کرکے اپنے قبضے میں کرلیے گئے اور بس کی نچلی منزل پر واقع سامان کے کمپارٹمنٹ کو کھول کر اس کی بھی تلاشی لی گئی۔ تقریبا آدھے گھنٹے کی چیکنگ کے بعد آخر کار ہمیں آگے بڑھنے کا اشارہ کیا گیا۔ اب ہم اگلے چار گھنٹے تک اس بس چے چمٹے رہنے پر مجبور تھے اس لیے کہ ہمارے پاسپورٹ فوجیوں نے اپنے قبضے میں لے لیے تھے جو بشرط واپسی ہی ہمیں لوٹائے جانے تھے۔ ہمارے دل میں یہ احساس جاگزیں ہوچکا تھا کہ ہم ایک آزاد دنیا سے ایک قید خانے میں جارہے تھے۔ایک عجیب اداسی کی کیفیت ہمارے حواس پر طاری ہورہی تھی۔اے اداسی تجھے سلام۔ ہم جو صرف چار گھنٹے کے لیے اس دنیا میں داخل ہوا چاہتے تھے، پریشان تھے، اداس تھے، اپنی آزادی کے چھن جانے پر خوفزدہ تھے۔ ہمیں ان لوگوں کا بھی خیال تھا جو اپنی ساری زندگی اس قید خانے میں گزارنے پر مجبور تھے۔ جن کے ارد گرد ایک لوہے کا پردہ ڈال دیا گیا تھا۔ جو اس وسیع و عریض قید خانے میں ضمیر کے قیدی تھے۔ بھاری دل کے ساتھ ہم نے اس نئی دنیا میں قدم رکھا اور ہماری بس نے چیک پوایئنٹ چارلی سے مشرقی برلن ( مشرقی جرمنی) میں سفر شروع کیا۔
بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر ہمارے پیارے قارئین کو چیک پوائینٹ چارلی سے متعلق کچھ معلومات فراہم کردی جائیں۔ یہ معلومات ہم نے مندرجہ ذیل ویب سائیٹ سے لی ہیں ۔ قارئین اس ویب سائیٹ پر جاکردیوارِ برلن کی پوری تاریخ جان سکتے ہیں۔
http://www.dailysoft.com/berlinwall/history/
’’ ۱۳ اگست ۱۹۶۱ کو سرحدبند کرنے کے دس دن بعد، سیاحوں، دوسرے ممالک کے افسروں ( ڈپلو میٹس ) اور مغربی طاقتوں کے فوجیوں کو مشرقی برلن میں داخلے کے لیے صرف فریڈریش اسٹراسے پر واقع گیٹ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ کچھ دن بعد ، اس کے علاوہ دو اور چیک پوائینٹس کھولے گئے جن میں سے ایک مغربی جرمنی کی سرحد پر واقع تھا اور ہیلم اشٹاڈ میں تھا اور دوسرا مغربی برلن اور مشرقی جرمنی کی سرحد پر ،ڈرائی لنڈن میں تھا۔ ان تین چیک پوائینٹس کو بالترتیب چیک پوائینٹ الفا ( ڈرائی لنڈن)، چیک پوائینٹ براوو ( ہیلم اشٹاڈ) اور چیک پوائینٹ چارلی ( فریڈریش اسٹراسے) کے نام سے پکارا گیا۔‘‘ 
چیک پوائینٹ چارلی سے آگے بڑھے تو ہماری حسین گائڈ نے بس کے انٹر کام پر ہمیں خوش آمدید کہا اور ارد گرد کی عمارات سے متعلق معلومات بہم پہنچانا شروع کردیں۔ ہم ایک کشادہ سڑک پر پہنچے تو گائڈ نے بتایا کہ اس سڑک کا نام اُنٹر ڈی لنٹن یعنی ’’لیموں کے درختوں کی چھاؤں میں‘‘ ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اس سڑک پر دورویہ لیموں کے درخت لگائے گئے تھے جسکی وجہ سے اس اسٹراسے کا نام ہی اُنٹر ڈی لنٹن پڑ گیا تھا۔ اس وسیع و عریض شاہراہ کے دونوں جانب انتہائی عالیشان عمارتیں اس شہر کے عظیم ماضی کے قصے سنا رہی تھیں۔ ایک ایک عمارت دیکھنے کے لائق تھی۔ خوبصورت، عالیشان اور فن تعمیر کا ایک اعلیٰ نمونہ۔ یکے بعد دیگرے ان عمارتوں کا ایک سلسلہ تھا جو دور تک پھیلا ہوا تھا۔ پتھر کی بنی ہوئی یہ بلند و بالا عمارتیں اس پارینہ عظمت کے گن گا رہی تھیں جو اس شہر اور اس عظیم ملک کا خاصہ تھی۔ہم دیکھتے ہی چلے گئے۔ کبھی بس کے سامنے کے شیشے سے آنے والی عمارت کو دیکھتے، کبھی دائیں دیکھتے اور کبھی بائیں۔ ادھر ہماری گائڈ ایک خوبصورت جرمن خاتون تھی جس کے گلے کی حلاوٹ پر ہم کئی کئی مرتبہ قربان ہو ہو سے گئے۔اس کا بیان پہلے جرمن اور پھر انگلش زبان میں ہوتا۔ پہلے ہم اسکے حسین چہرے کی بناوٹ کو دیکھتے ہوئے اس کے خوبصورت منہ سے جرمن زبان کی شیرینی کے مزے لوٹتے اور پھر انگلش میں اس کا مدعا جانتے۔ پہلے جرمن زبان میں وہ جب بھی شہر برلن کا تذکرہ کرتی، اسکے بیان میں لفظ ’برلن‘ ہمیں بلین سنائی دیتا ، پھر اسکے ترجمے میں وہ اسے انگلش لہجے میں بورلن ( رے کو پر کرکے) ادا کرتی۔ ہم جو اسکے الفاظ کی ادائیگی اور تلفظ پر پہلے ہی فدا ہورہے تھے، اس لفظ کو دو مختلف زبانوں میں سن کر تو جھوم جھوم اٹھتے۔اگلے تین گھنٹے کچھ اس تیزی کے ساتھ گزرے کہ ہم حیران رہ گئے ۔کاش کچھ اور وقت ملا ہوتا تاکہ ہم اس کی زبان کی شیرینی سے صحیح طور پر لطف اندوز ہو سکتے۔ کاش کچھ اور وقت ملا ہوتا اور ہم پیدل گھوم کر ان عمارتوں کو دیکھ پاتے۔ یہی سوچتے ہوئے ہم ایک ایک گزرے ہوئے لمحے کو اپنی یادداشت میں محفوظ کرتے رہے۔
ایک جگہ ، پتھر کی خوبصورت عمارت کے صحن میں ہمیں بس سے تارا گیا۔ ہم نے ٹانگیں سیدھی کیں اور گائڈ کی جانب دیکھا تو پتا چلا کہ ہمیں ایک عدد میوزیم کو دیکھنے کے لیے یہاں روکا گیا ہے۔ میوزیم بھی خاصا دلچسپ تھا۔ فارغ ہوئے تو پھر بس میں اپنی اپنی سیٹ سنبھالی اور اپنی حسین ٹوور گائڈ اورمشرقی برلن کے خوبصورت نظاروں میں کھو گئے۔
بس میں سے چلتے چلتے ہم نے ایک عدد عالیشان اور خوبصورت گیٹ کو بھی دیکھا جس کے اوپر ایک لائف سائز رتھ کو چار تنومندگھوڑے کھینچ رہے تھے۔اس ’’کواڈریگا ‘‘ یعنی رتھ کو جرمن دیومالائی کہانیوں کی فتح کی دیوی ’’ وکٹوریہ‘‘ چلارہی ہے۔ پتھر کا بنا ہوا یہ مجسمہ اتنا دل لبھانے والا تھا کہ ہم مبہوت ہوکر اسے دیکھتے رہے جب تک کہ وہ ہماری نظروں سے اوجھل نہ ہوگیا۔یہ عمارت جس کا نام برنڈن برگ گیٹ ہے، برلن کا لینڈمارک یا علامتی عمارت کہلائی جانے کی بجا طور پر مستحق ہے 
کبھی کبھی دیوار برلن کی بھی ہمیں ایک آدھ جھلک نظر آجاتی تھی لیکن دور دور سے، ا دھر ہماری گائڈ اس بارے میں خاموش تھی۔ وہ ہمیں سامنے سے گزرنے والی عمارتوں کے ماضی بعید کے بارے میں فر فر بتاتی رہی، لیکن پچھلے پچاس ساٹھ سالہ تاریخ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ 
خیر صاحب ، یہ چار گھنٹے کہاں گئے، ہمیں آج تک نہیں پتا چلا۔ ہم ایک خوابناک انداز میں اس عظیم الشان شہر کو دیکھتے رہے یہاں تک کہ بس دوبارہ چیک پوائینٹ چارلی پر پہنچ کر رک گئی۔ اب جو تلاشی شروع ہوئی ہے تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ بس کے ہر کونے کھدرے کی تلاشی لی گئی۔سامان کے کمپارٹمنٹ کو دوبارہ کھلوا کر ایک ایک سوٹ کیس اور بیگ کو نکال کر دیکھا گیا۔دراصل مشرقی جرمنی والے یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا کوئی بھی شہری ان کے چنگل سے آزاد ہوکر آزاد دنیا میں جاسکے اور سکھ اور چین کا سانس لے سکے۔ہمیں ہر لمحہ یہ خوف دامن گیر تھا کہ کہیں ہمیں کسی ناکردہ گناہ کی پاداش میں روک ہی نہ لیا جائے۔ خیر خدا خدا کرکے اس تکلیف دہ صورت حال کا خاتمہ ہوا اور فوجیوں نے بس کو آگے بڑھانے کا اشارہ کردیا۔ ہمیں اپنے پاسپورٹ کی بھی فکر دامن گیر تھی لیکن گائڈ کے ہاتھوں میں پاسپورٹوں کی گڈی میں جھانکتا ہوا ہرا رنگ دیکھ کر جان میں جان آئی۔ بس نے ہمیں اسی چوک میں اتار دیا جہاں سے ہم اس سفر پر روانہ ہوئے تھے۔ ہمیں یقین نہیں آرہا تھا کہ ہم مشرقی جرمنی کے شہر مشرقی برلن ہو آئے ہیں۔ہم نے اور ہمارے کینیڈین دوست نے اپنے اپنے پاسپورٹ سنبھالے اور دوسری بس کی جانب بڑھے جو مغربی برلن کی سیر کے لیے تیار تھی۔ 
اگلے آدھے گھنٹے کے اندر اندرہم مغربی برلن کی سیر کی غرض سے ایک دوسری بس میں آرام سے بیٹھے تھے، ہماری ہمسفر گائڈ ایک اور جرمن شگفتہ چہرے والی خاتون تھی اور بس اپنے سفر پر روانہ ہونے کو تھی۔ ہم نے اپنی نگاہیں گائڈ کے چاند سے چہرے پر گاڑدیں اور مغربی برلن کی بہاریں دیکھنے کے لیے تیار ہوگئے۔
بس چلی تو سب سے پہلا نظارہ قیصر ویلہلم کا گرجا تھا جو جنگ عظیم دوم میں تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوچکا تھا، اس کا تباہ شدہ مینار اب بھی اسی حالت میں کھڑا عظمت رفتہ کی کہانی سنارہا ہے جسکے برابر ۱۹۶۳ میں ایک نئی عمارت بنا دی گئی ہے۔ بس گھومتی رہی اور ہم مغربی جرمنی کی خوبصورت اور نسبتاً نئی عمارات کو دیکھتے رہے۔ ہمارا خیال ہے کہ زیادہ تاریخی اور عالیشان عمارات شہر کے مشرقی حصے میں تھیں۔ بس نے ہمیں دیوارِ برلن کے قریب ایک عمارت میں اتارا اور ہم اس میوزیم کو دیکھتے ہوئے دیوارِ برلن کی اصل کہانی سنتے رہے۔ یہاں سے ہم دیوار کے قریب گئے اور اس پر مغربی جانب بنے ہوئے مصوری کے نمونے دیکھا کیے۔ قریب ہی کچھ قبریں بھی تھیں جو دیوار پار کرنے والوں پر مشرقی گارڈز کے ظلم کی داستان سنا رہی تھیں۔
ہم نے میوزیم کی عمارت کے چبوترے پر چڑھ کر دوسری طرف جھانکا تو قریب ہی برنڈن برگ گیٹ کی عالیشان عمارت نظر آرہی تھی۔ دیوار کی دوسری جانب ایک ہیبت ناک سناٹا چھایا ہوا تھا اور کوئی آدم یا آدم زاد نظر نہیں آتا تھا، گو یا کسی انسان کوبھی اُدھر دم مارنے کی اجازت نہ تھی، اِدھر مغربی جانب اسے ایک مصور دیوار کی حیثیت حاصل تھی جس پر ہزاروں مصوروں نے اپنے نقش و نگار چھوڑے تھے۔
بحیثیت مجموعی برلن ہمیں اچھا لگا تھا۔ آج تقریباً پچیس سال بعد ہم اس شہرکو دوبارہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ متحدہ برلن کتنا عظیم الشان شہر ہوگا۔ اس کریہہ المنظر دیوار کا کیا ہوا ہوگا۔ ٹی وی پر کئی مرتبہ اس دیوار کو گرتے ہوئے دیکھاہے، جو ہمیں بہت اچھا لگا۔ اس وقت لوگوں کے بپھرے ہوئے جذبات کا کیا عالم ہوگا جب انھوں نے ہر زنجیر کو توڑ دیا اور اس قبیح دیوار کو آخر کار گرادیا جس نے انھیں پچاس سال ایک دوسرے سے جدا رکھا تھا۔ اس دنیا میں ہم نے ایک ملک کے اتحاد کو پارہ پارہ ہوتے ہوئے تو اکثر دیکھا ہے لیکن یونیفیکیشن یعنی ایک ملک کے دوحصوں کو متحد ہوتے ہوئے پہلی بار دیکھا۔People have spoken عوام کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا۔
اپنےدن کی اس مصروفیت میں ہم دوپہر کا کھانا بھول چکے تھے، لہٰذا ان دونوں سفروں سے فارغ ہوکر ہم نے ایک ریستوران میں جاکر رات کا کھانا کھایا ، اور اسٹیشن پہنچ کر میونخ کی ٹرین پر سوار ہوگئے۔ ابھی اتوار کا دن باقی تھا جسے ہم میونخ کی سیر میں گزارنا چاہتے تھے۔ آج ساری رات سفر میں سوتے ہوئے گزار کر کل صبح سویرے ہم میونخ پہنچ جائیں گے جسے اہلِ جرمنی میونچن کہتے ہیں۔ 
رات آئی تو پھر گارڈز نے ہمارے پاسپورٹ چیک کیے اور ہمیں مشرقی جرمنی کا ٹرازٹ ویزا تھمادیا۔ یہ دونوں کاغذات اب بھی ہمارے خزانے میں موجود ہیں۔ جب کبھی ہم اپنے اس خزانے کو نکال کر دیکھنا شروع کرتے ہیں میموری لین میں پہنچ جاتے ہیں، اپنی پیاری یادوں کے درمیان، جب ہم نے یہ سفر کیے تھے۔ جب ہم نے اس انوکھی سرزمین کی سیر کی تھی۔
اس سفر سے واپسی کے بعد برلن ہمارے لیے اجنبی شہر نہ تھا۔ جب کبھی کسی ناول میں اس کا تذکرہ آتا، ہم بہت شوق سے اسے پڑھتے۔ برلن جسے ہم دیکھ چکے۔ دیوارِ برلن جو اب قصہ پارینا بن چکی ، ہم نے اسے دیکھا ہے۔ جان لی کار کا جاسوسی ناول ’’دی اسپائی ہو کیم ان فرام دی کولڈ‘‘ ہمارے پسندیدہ ناولوں میں سے ہے۔ یہ اسی دور کی کہا نی ہے جب دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ دیوار برلن کے اُس طرف اور دیوارِ برلن کے اِس طرف۔آہنی پردے کر اُس طرف اور آہنی پردے کے اِس طرف۔یہ ٹھنڈی جنگ یعنی ’کولڈ وار‘ کا قصہ ہے۔ اسی ناول میں چک پوائینٹ چارلی کا تذکرہ بھی موجود ہے جسے عبور کرتے ہوئے ایک کردار مشرقی جرمن فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن جاتا ہے۔یہ وہی چیک پوائینٹ چارلی ہے جسے عبور کرکے ہم مشرقی برلن گئے تھے۔
اگلی صبح ہم میونچن پہنچ گئے اور سارا دن اسی طرح اس عظیم شہر کی سیر کی اور شام ڈھلے ایرلانگن کو سدھارے۔میونچن، نورمبرگ اور ایرلانگن، جرمن صوبے بویریا کا حصہ ہیں۔ بویریا کے رہنے والے بائر کہلاتے ہیں۔ ریشارڈ شرم بھی ایک بائر تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا۔ 
It’s nice to be a price but it’s higher to be a Bayar
’’پرائس ہونا اچھا ہے لیکن بائر ہونا زیادہ بہتر ہے۔‘‘
کہتے ہیں پرانے زمانے میں بویریا میں گھڑیاں الٹی چلتی تھیں۔ آج بھی بویریا کی گھڑیوں کی دکانوں پر آپ کو ایسی گھڑیاں مل جاتی ہیں جو کاؤنٹر کلاک وائز چلتی ہیں۔ ہم نے بھی میونچن سے ایک ایسی ہی دیوار گھڑی ( وال کلاک) مول لی جو الٹی چلتی تھی۔گھر لاکر اکثر ہم اپنے مہمانوں کو یہ عجیب و غریب گھڑی دِکھا کر حیران کردیا کرتے تھے۔
ہمارا ویک اینڈ ختم ہورہا تھا۔ کل سے پھر وہی ٹریننگ ہوگی اور وہی مصروفیات۔ اِس کورس میں ابھی ایک ہفتہ باقی ہے۔ اگلے ہفتے بابو بھی کراچی سے آرہے ہیں جن کے ساتھ ملکر ہم ایک دوسری ٹریننگ حاصل کریں گے، ایک دوسری جماعت کا حصہ بنیں گے۔ ہمارا کینیڈین دوست، ہمارا جرمن دوست ریشادڑ شرم اور سوین گنار اولسن سب اپنے اپنے گھروں کو سدھاریں گے، شاید پھر کبھی نہ ملنے کے لیے۔ٹرین جوں جوں ایرلانگن سے قریب ہوتی جاتی تھی، ہماری اداسی بڑھتی جاتی تھی۔ اے اداسی تجھے سلام۔